یعنی اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا اور اگر تو ہمیں رحم فرما کر نہ بخشے گا تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
(تفسیر جلالین، ص۱۳۱،پ۸، الاعراف:۲۳)
لیکن حاکم و طبرانی و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ِ الٰہی ہوا تو آپ توبہ کی فکر میں حیران تھے۔ ناگہاں اس پریشانی کی عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سراٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہوا ہے
لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ ِ
اسی وقت میں نے سمجھ لیا تھا کہ بارگاہِ الٰہی میں وہ مرتبہ کسی کو میسر نہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ ملا کر عرش پر تحریر فرمایا ہے۔ لہٰذا آپ نے اپنی دعا میں
رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا
اور ابن منذر کی روایت میں یہ کلمات بھی ہیں کہ
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِجَاہِ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہِ عَلَیْکَ اَنْ تَغْفِرَلِیْ خَطِیْئَتِی
یعنی اے اللہ! تیرے بندہ خاص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جاہ و مرتبہ کے طفیل میں اور ان کی بزرگی کے صدقے میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ تو میرے گناہ کو بخش دے۔ یہ دعا کرتے ہی حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی اور توبہ مقبول ہوئی۔
(تفسیر خزائن العرفان، ص ۱۰۹۴، ۱۰۹۵،پ۱، البقرۃ:۳۷)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ: