| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
لوگوں کو اس سے رنجیدہ اور کبیدہ خاطر ہونے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے اور نہ اس عداوت اور دشمنی کو ختم کرنے کی تدبیروں پر غوروخوض کر کے پریشان ہونے سے کوئی فائدہ ہے۔ کیونکہ جس طرح اندھیرے اور اجالے کی دشمنی، آگ اور پانی کی دشمنی، گرمی اور سردی کی دشمنی کبھی ختم نہیں ہوسکتی، ٹھیک اسی طرح انسانوں میں آپس کی دشمنی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اللہ عزوجل نے حضرت آدم و حوا علیہما السلام کے زمین پر آنے سے پہلے ہی یہ فرما دیا کہ
بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ
یعنی ایک انسان دوسرے انسان کا دشمن ہو گا تو یہ عداوت و دشمنی خلقی اور فطری ہے جو حکم ِ الٰہی اور اس کی مشیت سے ہے تو پھر بھلا کون ہے جو اس عداوت کا دنیا سے خاتمہ کراسکتا ہے
واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۱۰)آدم علیہ السلام کی توبہ کیسے قبول ہوئی؟
حضرت آدم علیہ السلام نے جنت سے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک ندامت کی وجہ سے سر اٹھا کر آسمان کی طرف نہیں دیکھا اور روتے ہی رہے روایت ہے کہ اگر تمام انسانوں کے آنسو جمع کئے جائیں تو اتنے نہیں ہوں گے جتنے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام کے خوف ِ الٰہی سے زمین پر گرے اور اگر تمام انسانوں اور حضرت داؤد علیہ السلام کے آنسوؤں کو جمع کیا جائے تو حضرت آدم علیہ السلام کے آنسو ان سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔
(تفسیر صاوی،ج۱،ص۵۵،پ۱،البقرۃ: ۳۷)
بعض روایات میں ہے کہ آپ نے یہ پڑھ کر دعا مانگی کہ
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِی اِنَّہٗ لَایَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اَنْتَ۔
یعنی اے اللہ! میں تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتا ہوں۔ تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی بہت ہی بلند مرتبہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا