Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
272 - 414
فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿37﴾  (پ1،البقرۃ:37)
ترجمہ کنزالایمان:۔پھر سیکھ لئے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ 

قبول کی بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ 

درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے چند اسباق پر روشنی پڑتی ہے جو یہ ہیں:

(۱)اس سے معلوم ہوا کہ مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کے وسیلہ سے بحق فلاں و بجاہ فلاں کہہ کر دعا مانگنی جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے۔

(۲)حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے نکلتے وقت دوسری نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے بھلا دی گئی تھی اور بجائے اس کے سریانی زبان آپ کی زبان پر جاری کردی گئی تھی۔ مگر توبہ قبول ہونے کے بعد پھرعربی زبان بھی آپ کو عطا کردی گئی۔
 (تفسیر خزائن العرفان، ص ۱۰۹۵،پ۱، البقرۃ: ۳۷)
 (۳)چونکہ حضرت آدم علیہ السلام کی خطا اجتہادی تھی اور اجتہادی خطا معصیت نہیں ہے اس لیے جو شخص حضرت آدم علیہ السلام کو عاصی یا ظالم کہے گا وہ نبی کی توہین کے سبب سے کافر ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ مالک و مولیٰ ہے وہ اپنے بندہ خاص حضرت آدم علیہ السلام کو جو چاہے فرمائے اس میں ان کی عزت ہے دوسرے کی کیا مجال کہ خلافِ ادب کوئی لفظ زبان پر لائے اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے فرمائے ہوئے کلمات کو دلیل بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام کی تعظیم و توقیر اور ان کے ادب و اطاعت کا حکم فرمایا ہے لہٰذا ہم پر یہی لازم ہے کہ ہم حضرت آدم علیہ السلام اور دوسرے تمام انبیاء کرام کا ادب و احترام لازم جانیں اور ہرگزہرگز ان حضرات کی شان میں کوئی ایسا لفظ نہ بولیں جس میں ادب کی کمی کا کوئی شائبہ بھی ہو۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
Flag Counter