Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
269 - 414
فائز تھے اس لئے اس اجتہادی خطا پر بھی مورد ِ عتاب ہو گئے۔ فوراً ہی بہشتی لباس دونوں کے بدن سے گر پڑے اور یہ دونوں جنت کے پتوں سے اپنا ستر چھپانے لگے، اور خداوند قدوس کا حکم ہو گیاکہ تم دونوں جنت سے زمین پر اتر پڑو۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے دو خاص باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک تو یہ کہ تمہاری اولاد میں بعض، بعض کا دشمن ہو گا کہ ہمیشہ آپس میں انسانوں کی دشمنی چلتی رہے گی۔ دوسری یہ کہ عمر بھر تم دونوں کو زمین میں ٹھہرنا ہے پھر اس کے بعد ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اس واقعہ کو بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ:
فَاَزَلَّہُمَا الشَّیۡطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیۡہِ ۪ وَقُلْنَا اہۡبِطُوۡا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَکُمْ فِی الۡاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿36﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا اور ہم نے فرمایا نیچے اترو آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے۔(پ1،البقرۃ:36)

اس ارشاد ربانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ یہ جو انسانوں میں مختلف وجوہات کی بناء پر عداوتیں اور دشمنیاں چل رہی ہیں یہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ لاکھ کوشش کرو کہ دنیا میں لوگوں کے درمیان عداوت اور دشمنی کا خاتمہ ہوجائے مگر چونکہ یہ حکم خداوندی کے باعث ہے اس لئے یہ عداوتیں کبھی ہرگز ختم نہ ہوں گی۔ کبھی ایک ملک دوسرے ملک کا دشمن ہو گا، کبھی مزدور اور سرمایہ دار میں دشمنی رہے گی، کبھی امیر و غریب کی عداوت زور پکڑے گی، کبھی مذہبی و لسانی دشمنی رنگ لائے گی، کبھی تہذیب و تمدن کے باہمی ٹکراؤ کی دشمنی ابھرے گی، کبھی ایمان داروں اور بے ایمانوں کی عداوت رنگ دکھائے گی۔

الغرض دنیا میں انسانوں کی آپس میں عداوت و دشمنی کا بازار ہمیشہ گرم ہی رہے گا اس لئے
Flag Counter