حضرت آدم اور حضرت حواء علیہما السلام نہایت ہی آرام اور چین کے ساتھ جنت میں رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ جنت کا جو پھل بھی چاہو بے روک ٹوک سیر ہو کر تم دونوں کھا سکتے ہو۔ مگر صرف ایک درخت کا پھل کھانے کی ممانعت تھی کہ اس کے قریب مت جانا۔ وہ درخت گیہوں تھا یا انگور وغیرہ تھا۔ چنانچہ دونوں اس درخت سے مدت دراز تک بچتے رہے۔ لیکن ان دونوں کا دشمن ابلیس برابر تاک میں لگا رہا۔ آخر اس نے ایک دن اپنا وسوسہ ڈال ہی دیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں اور اللہ تعالیٰ نے جس درخت سے تم دونوں کو منع کردیا ہے وہ ''شجرۃ الخلد ''ہے یعنی جو اس درخت کا پھل کھائے گا، وہ کبھی جنت سے نہیں نکالا جائے گا۔ پہلے حضرت حوا علیہا السلام اس شیطانی وسوسہ کا شکار ہو گئیں اور انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو بھی اس پر راضی کرلیا اور وہ ناگہاں غیر ارادی طور پر اس درخت کا پھل کھا گئے۔
آپ نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھ لیا کہ