Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
268 - 414
زیادہ تابناک اور روشن ہے۔ سبحان اللہ! کس قدر حقیقت افروز ہے یہ شعر کہ
			آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا

 			آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
 (۹)انسانوں میں ہمیشہ دشمنی رہے گی
    حضرت آدم اور حضرت حواء علیہما السلام نہایت ہی آرام اور چین کے ساتھ جنت میں رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ جنت کا جو پھل بھی چاہو بے روک ٹوک سیر ہو کر تم دونوں کھا سکتے ہو۔ مگر صرف ایک درخت کا پھل کھانے کی ممانعت تھی کہ اس کے قریب مت جانا۔ وہ درخت گیہوں تھا یا انگور وغیرہ تھا۔ چنانچہ دونوں اس درخت سے مدت دراز تک بچتے رہے۔ لیکن ان دونوں کا دشمن ابلیس برابر تاک میں لگا رہا۔ آخر اس نے ایک دن اپنا وسوسہ ڈال ہی دیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں اور اللہ تعالیٰ نے جس درخت سے تم دونوں کو منع کردیا ہے وہ ''شجرۃ الخلد ''ہے یعنی جو اس درخت کا پھل کھائے گا، وہ کبھی جنت سے نہیں نکالا جائے گا۔ پہلے حضرت حوا علیہا السلام اس شیطانی وسوسہ کا شکار ہو گئیں اور انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو بھی اس پر راضی کرلیا اور وہ ناگہاں غیر ارادی طور پر اس درخت کا پھل کھا گئے۔

آپ نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھ لیا کہ
لَاتَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ
 (پ۱،البقرۃ:۳۵)   کی نہی تنزیہی ہے اور واقعی ہرگز ہرگز نہی تحریمی نہیں تھی۔ ورنہ حضرت آدم علیہ السلام نبی ہوتے ہوئے ہرگز ہرگز اس درخت کا پھل نہ کھاتے کیونکہ نبی تو ہر گناہ سے معصوم ہوتا ہے بہرحال حضرت آدم علیہ السلام سے اس سلسلے میں اجتہادی خطا سرزد ہو گئی اور اجتہادی خطا معصیت نہیں ہوتی۔
 (تفسیر خزائن العرفان، ص ۱۰۹۴،پ۱،البقرۃ:۳۶)
لیکن حضرت آدم علیہ السلام چونکہ دربارِ الٰہی میں بہت مقرب اور بڑے بڑے درجات پر
Flag Counter