Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
260 - 414
دونوں پہاڑیوں پر جانے کو گناہ سمجھنے لگے اس وقت اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ حکم نازل فرمایا کہ صفا و مروہ کے طواف اور ان دونوں کی زیارت میں کوئی حرج و گناہ نہیں بلکہ حج و عمرہ دونوں عبادتوں میں صفا و مروہ کا طواف ضروری ہے۔
             			(تفسیر صاوی، ج۱،ص۱۳۲،پ۲، البقرۃ : ۱۵۸)
فتح مکہ کے دن حضور سید اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پہاڑیوں پر سے ''اساف و نائلہ'' دونوں بتوں کو توڑ پھوڑ کر نیست و نابود کردیا اور ان دونوں پہاڑیوں کو حسب دستور سابق مقدس و معظم قرار دے کر ان دونوں کا طواف حج و عمرہ میں ضروری قرار دیا گیا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ:۔
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیۡتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ وَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ فَاِنَّ اللہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿158﴾ (پ2،البقرۃ:158)
ترجمہ کنزالایمان:۔ بےشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے والا خبردار ہے۔

درسِ ہدایت:۔صفا اور مروہ دونوں پہاڑیوں پر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے دوڑ کر پانی تلاش کیا تو ایک نبی یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی اور ایک نبی یعنی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی ماں حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے قدم ان پہاڑیوں پر پڑ جانے سے ان دونوں پہاڑیوں کو یہ عزت و عظمت مل گئی کہ حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی ایک مقدس یادگار بن جانے کا ان دونوں پہاڑیوں کو اعزاز و شرف مل گیا اور یہ دونوں پہاڑیاں حج و عمرہ کرنے والوں کے لئے طواف و سعی کا ایک مقبول و محترم مقام بن گئیں۔ اس سے یہ ہدایت کا سبق ملتا ہے کہ اللہ والوں اور اللہ والیوں سے اگر کسی جگہ کو کوئی خاص تعلق حاصل ہوجائے تو وہ
Flag Counter