| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
کے اندر خدا پر توکل کر کے صبر کے ساتھ رہنا چاہے اگر اس بیماری میں مر گیا تو شہید ہو گا اور طاعون کے ڈر سے بستی چھوڑ کر بھاگنے والے پر اتنا بڑا گناہ ہوتا ہے جتنا کہ جہاد کے دن میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں پر گناہ ہوتا ہے اس لئے ہرگز ہرگز بھاگنا نہیں چاہے بلکہ اس بیماری میں صبر کے ساتھ اپنی ہی بستی میں مقیم رہنا چاہے کہ اس پر خداوند تعالیٰ نے اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔
(واللہ تعالیٰ اعلم)
(۶)صفا و مروہ
یہ چھوٹی چھوٹی دو پہاڑیاں ہیں جو حرم کعبہ مکرمہ کے بالکل قریب ہی ہیں اور آج کل تو بلند عمارتوں اور اونچی سڑکوں اور یہ دونوں پہاڑیوں کے درمیان چھت بن جانے اور تعمیرات کے ردوبدل سے دونوں پہاڑیاں برائے نام ہی کچھ بلندی رکھتی ہیں۔ انہی دونوں پہاڑیوں پر چڑھ کر اور چکر لگا کر حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس وقت پانی کی جستجو اور تلاش کی تھی جب کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام شیر خوار بچے تھے اور پیاس کی شدت سے بے قرار ہو گئے تھے اسی لئے زمانہ قدیم سے یہ دونوں پہاڑیاں بہت مقدس مانی جاتی ہیں اور حجاج کرام ان دونوں پہاڑیوں پر چڑھ کر بڑے احترام اور جذبہ عقیدت کے ساتھ طواف کرتے اور دعائیں مانگا کرتے تھے۔ مگر زمانہ جاہلیت میں ایک مرد جس کا نام ''اساف'' تھا اور ایک عورت جس کا نام ''نائلہ'' تھا ان دونوں خبیثوں نے خانہ کعبہ کے اندر زنا کاری کرلی تو ان دونوں پر یہ قہر الٰہی نازل ہو گیا کہ یہ دونوں مسخ ہو کر پتھر کی مورت اور بت بن گئے پھر زمانہ جاہلیت کے بت پرستوں نے ان دونوں مجسموں کو کعبہ سے اٹھا کر صفا و مروہ کی دونوں پہاڑیوں پر رکھ دیا اور ان دونوں بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ پھر جب عرب میں اسلام پھیل گیا تو مسلمان ''اساف و نائلہ'' دونوں بتوں کی وجہ سے ان