Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
261 - 414
جگہ بہت معزز و معظم بن جاتی ہے اور ہر مسلمان کے لئے وہ جگہ قابل تعظیم و لائق احترام ہوجاتی ہے ورنہ مکہ معظمہ میں بہت سی پہاڑیاں اور چھوٹے بڑے بہت سے پہاڑ ہیں، مگر صفا و مروہ کی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کو جو تقدس و عظمت حاصل ہے وہ کسی دوسرے پہاڑ کو حاصل نہیں۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ یہ دونوں پہاڑیاں ایک اللہ والی کی ایک مبارک جدوجہد کی یادگار ہیں۔

اسی پر گنبد خضراء اور اولیاء اللہ کے روضوں اور ان حضرات کی عبادت گاہوں اور دوسرے مقدس مقامات کو قیاس کرلینا چاہے کہ یہ سب خاصانِ خدا کی نسبت وتعلق کی وجہ سے معزز و معظم اور قابل تقدس و لائق تعظیم و احترام ہیں اور ان سب جگہوں کی تعظیم و توقیرخداوند قدوس کی خوشنودی کا باعث اور ان سب مقامات کی بے ادبی و تحقیر قہر قہار و غضب جبار کا سبب ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کو جو گنبد خضراء اور مقابر اولیاء اللہ کی بے ادبی کرتے اور ان کو منہدم اور مسمار کرنے کا پلان بناتے رہتے ہیں، انہیں ان حقائق کے ستاروں سے ہدایت کی روشنی حاصل کرنی چاہے اور اپنی نحوستوں اور بدبختیوں سے تائب ہو کر صراطِ مستقیم کی راہ پر ثابت قدم ہوجانا چاہے۔ خداوند قدوس اپنے حبیب کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے طفیل میں سب کو ہدایت کا نور عطا فرمائے اور صراطِ مستقیم کی شاہراہ پر چلائے۔ (آمین)
 (۷)ستر آدمی مر کر زندہ ہو گئے
حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہِ طور پر چالیس دن کے لئے تشریف لے گئے تو ''سامری''منافق نے چاندی سونے کے زیورات پگھلا کر ایک بچھڑے کی مورت بنا کر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے پاؤں تلے کی مٹی اس مورت کے منہ میں ڈال دی تو وہ زندہ ہو کر بولنے لگا۔ پھر سامری نے مجمع عام میں یہ تقریر شروع کردی کہ اے بنی اسرائیل! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خدا سے باتیں کرنے کے لئے کوہِ طور پر تشریف لے گئے ہیں لیکن خدا تو خود ہم
Flag Counter