| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے اور ہر طرف ویرانی اور خوف و ہراس کا دور دورہ پھیل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:۔
وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوۡا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوۡا مِنْہَا حَیۡثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْ ؕ وَسَنَزِیۡدُ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿58﴾فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا قَوْلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمْ فَاَنۡزَلْنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفْسُقُوۡنَ ﴿٪59﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جاؤ پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا توہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا بدلہ ان کی بے حکمی کا۔ (پ1،البقرۃ:58۔59)
درسِ ہدایت:۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ خداوند قدوس کی نافرمانی اور احکام ربانی کے ساتھ تمسخر و مذاق کرنے کا کتنا بھیانک اور کس قدر ہولناک انجام ہوتا ہے کہ آخرت کا عذاب تو اپنی جگہ برقرار ہی ہے دنیا میں قہر الٰہی بصورت عذاب نازل ہوجاتا ہے جس سے لوگ ہلاک ہوکر فنا کے گھاٹ اتر جاتے ہیں اور بستیاں ویران ہوجاتی ہیں معاذ اللہ منہ۔ فائدہ:۔''طاعون'' بنی اسرائیل کے حق میں عذاب تھا مگر اس خیرالامم یعنی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے حق میں یہ بیماری رحمت ہے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ طاعون کی بیماری میں مرنے والا شہید ہوتا ہے۔
(تفسیر صاوی، ج۱،ص۶۸،پ۱،البقرۃ: ۵۹)
مسئلہ یہ ہے کہ جس بستی میں طاعون کی وبا پھیلی ہو وہاں جانا نہیں چاہے اور اگر اپنی بستی میں وبا آجائے تو بستی چھوڑ کر دوسری جگہ بھاگنا نہیں چاہیئے بلکہ طاعون کی وبا میں اپنی بستی ہی