Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
252 - 414
مخلوق کہہ کر اپنی بڑائی اور تکبر کا اظہار کیا اور سجدہ آدم علیہ السلام سے انکار کیا ،درحقیقت شیطان کے اس انکار کا باعث اس کا تکبر تھا اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تکبر وہ بری شے ہے کہ بڑے سے بڑے بلند مراتب و درجات والے کو ذلت کے عذاب میں گرفتار کردیتی ہے بلکہ بعض اوقات تکبر کفر تک پہنچا دیتا ہے اور تکبر کے ساتھ ساتھ جب محبوبانِ بارگاہ الٰہی کی توہین اور تحقیر کا بھی جذبہ ہو تو پھر تو اس کی شناعت و خباثت اور بے پناہ منحوسیت کا کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا اور اس کے ابلیس لعین ہونے میں کوئی شک و شبہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ اس لئے ان لوگوں کو عبرت آموز سبق لینا چاہے جو بزرگان دین کی توہین کر کے اپنی عبادتوں پر اظہار تکبر کرتے رہتے ہیں کہ وہ اس دور میں ابلیس کہلانے کے مستحق نہیں تو پھر کیا ہیں؟
واللہ تعالیٰ اعلم۔
حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کتنے اور کس قدر علوم عطا فرمائے اور کن کن چیزوں کے علوم و معارف کو عالم الغیب والشہادۃ نے ایک لمحہ کے اندر ان کے سینہ اقدس میں بذریعہ الہام جمع فرما دیا، جن کی بدولت حضرت آدم علیہ السلام علوم و معارف کی اتنی بلند ترین منزل پر فائز ہو گئے کہ فرشتوں کی مقدس جماعت آپ کے علمی وقار و عرفانی عظمت و اقتدار کے روبرو سربسجود ہو گئی ،ان علوم کی ایک فہرست آپ قطب زمانہ حضرت علامہ شیخ اسمٰعیل حقی علیہ الرحمۃ کی شہرہ آفاق تفسیر روح البیان شریف میں پڑھئے جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے، وہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کا نام، تمام زبانوں میں سکھا دیا اور ان کو تمام ملائکہ کے نام اور تمام اولاد ِ آدم کے نام، اور تمام حیوانات و نباتات وجمادات کے نام، اور تمام چیز کی صنعتوں کے نام اور تمام شہروں اور تمام بستیوں کے نام اور تمام پرندوں اور درختوں کے نام اور جو آئندہ عالم وجود میں آنے والے ہیں سب کے نام اور قیامت تک پیدا ہونے والے تمام جانداروں کے نام اور تمام کھانے پینے کی چیزوں کے نام اور جنت کی تمام نعمتوں
(3) علوم آدم علیہ السلام كی ایك فھرست
Flag Counter