تسبیح و تقدیس نہیں ہے بلکہ اس کا دارومدار علوم و معارف کی کثرت پر ہے۔ چنانچہ حضرات ملائکہ علیہم السلام باوجود کثرت عبادت اور تسبیح و تقدیس ''خلیفۃ اللہ''کے لقب سے سرفراز نہیں کئے گئے اور حضرت آدم علیہ السلام علوم و معارف کی کثرت کی بناء پر خلافت کے شرف سے ممتاز بنا دیئے گئے جس پر قرآن مجید کی آیات کریمہ شاہد عدل ہیں۔
(۵)اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علوم کی کثرت کو عبادت کی کثرت پر فضیلت حاصل ہے اور ایک عالم کا درجہ ایک عابد سے بہت زیادہ بلند تر ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے علمی فضل و کمال اور بلند درجات کے اظہار و اعلان کے لئے اور ملائکہ سے اس کا اعتراف کرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم فرمایا کہ تمام فرشتے حضرت آدم علیہ السلام کے روبرو سجدہ کریں۔ چنانچہ تمام ملائکہ نے حکم الٰہی کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت آدم کو سجدہ کرلیا اور وہ اس کی بدولت تقرب الی اللہ اور محبوبیت خداوندی کی منزل بلند پر فائز ہو گئے اور ابلیس چونکہ اپنے تکبر کی منحوسیت میں گرفتار ہو کر اس سجدہ سے انکار کر بیٹھا تو وہ مردود ِ بارگاہ الٰہی ہو کر ذلت و گمراہی کے ایسے عمیق غار میں گر پڑا کہ قیامت تک وہ اس غار سے نہیں نکل سکتا اور ہمیشہ ہمیشہ وہ دونوں جہان کی لعنتوں کا حق دار بن گیا اور قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو کر دائمی عذاب ِ نار کا سزاوار بن گیا۔
(۶)اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کے علم کو جانچنے اور علم کی قلت و کثرت کا اندازہ لگانے کے لئے امتحان کا طریقہ جو آج کل رائج ہے یہ اللہ تعالیٰ کی سنت قدیمہ ہے کہ خداوند ِ عالم نے فرشتوں کے علم کو کم اور حضرت آدم علیہ السلام کے علم کو زائد ظاہر کرنے کے لئے فرشتوں اور حضرت آدم علیہ السلام کا امتحان لیا۔ تو فرشتے اس امتحان میں ناکام رہ گئے اور حضرت آدم علیہ السلام کامیاب ہو گئے۔
(۷)ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو خاک کا پُتلا کہہ کر ان کی تحقیر کی اور اپنے کو آتشی