اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے۔ (پ۱،البقرۃ :۳۱)
درسِ ہدایت:۔حضرت آدم علیہ السلام کے خزائن علم کی یہ عظیم فہرست دیکھ کر سوچئے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کے علوم و معارف کی یہ منزل ہے تو پھر حضور سید آدم و سرور اولادِ آدم، خلیفۃ اللہ الاعظم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم عالیہ کی کثرت و وسعت اور ان کی رفعت و عظمت کا کیا عالم ہو گا؟ میں کہتا ہوں کہ واللہ حضرت آدم علیہ السلام کے علوم کو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم سے اتنی بھی نسبت نہیں ہوسکتی جتنی کہ ایک قطرہ کو سمندر سے اور ایک ذرہ کو تمام روئے زمین سے نسبت ہے۔ اللہ اکبر! کہاں علوم آدم اور کہاں علوم سید عالم! ؎
فرش تا عرش سب آئینہ ، ضمائر حاضر
بس قسم کھائیے اُمّی! تیری دانائی کی
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ
(۴)ابلیس کیا تھا اور کیا ہو گیا؟
ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا ہے۔ یہ فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جو آگ سے پیدا ہوا تھا۔ لیکن یہ فرشتوں کے ساتھ ساتھ ملا جلا رہتا تھا اور دربارِ خداوندی میں بہت مقرب اور بڑے بڑے بلند درجات و مراتب سے سرفراز تھا۔ حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابلیس