ہیں، یہ نکتہ فرشتوں کی نگاہ سے اوجھل رہ گیا۔ اسی لئے باری تعالیٰ نے فرشتوں کے جواب میں فرمایا کہ میں جو جانتا ہوں اس کو تم نہیں جانتے اور فرشتے یہ سن کر خاموش ہو گئے۔
اس سے یہ ہدایت کا سبق ملتا ہے کہ چونکہ بندے خداوند قدوس کے افعال اور اس کے کاموں کی مصلحتیں اور حکمتوں سے کماحقہ واقف نہیں ہیں اس لئے بندوں پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی فعل پر تنقید و تبصرہ سے اپنی زبان کو روکے رہیں۔ اور اپنی کم عقلی و کوتاہ فہمی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ ایمان رکھیں اور زبان سے اعلان کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ کیا اور جیسا بھی کیا بہرحال وہی حق ہے اور اللہ تعالیٰ ہی اپنے کاموں کی حکمتوں اور مصلحتوں کو خوب جانتا ہے جن کا ہم بندوں کو علم نہیں ہے۔
(۳)اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے ناموں، اور ان کی حکمتوں کا علم بذریعہ الہام ایک لمحہ میں عطا فرما دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم کا حصول کتابوں کے سبقاً سبقاً پڑھنے ہی پر موقوف نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جس بندے پر اپنا فضل فرما دے اس کو بغیر سبق پڑھنے اور بغیر کسی کتاب کے بذریعہ الہام چند لمحوں میں علم حاصل کرا دیتا ہے اور بغیر تحصیل علم کے اس کا سینہ علم و عرفان کا خزینہ بن جایا کرتا ہے۔ چنانچہ بہت سے اولیاء کرام کے بارے میں معتبر روایات سے ثابت ہے کہ انہوں نے کبھی کسی مدرسہ میں قدم نہیں رکھا۔ نہ کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذتہ کیا نہ کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا، مگر شیخ کامل کی باطنی توجہ اور فضل ربی کی بدولت چند منٹوں بلکہ چند سیکنڈوں میں الہام کے ذریعے وہ تمام علوم و معارف کے جامع کمالات بن گئے اور ان بزرگوں کے علمی تبحر اور عالمانہ مہارت کا یہ عالم ہو گیا کہ بڑے بڑے درسگاہی مولوی جو علوم و معارف کے پہاڑ شمار کئے جاتے تھے ان بزرگوں کے سامنے طفل مکتب نظر آنے لگے۔
(۴)ان واقعات سے معلوم ہوا کہ خدا کی نیابت اور خلافت کا دارو مدار کثرتِ عبادت اور