ہیں۔ لہٰذا ان کو خلافتِ الٰہیہ سے سرفراز کرنے سے بہتر یہ ہے کہ ہم فرشتوں کو خلافت کا شرف بخشا جائے۔ کیونکہ ہم ملائکہ خدا کی تسبیح و تقدیس اور اس کی حمد و ثناء کو اپنا شعار زندگی بنائے ہوئے ہیں لہٰذا ہم ملائکہ حضرت آدم علیہ السلام سے زیادہ خلافت کے مستحق ہیں۔
فرشتوں نے اپنی یہ رائے اس بناء پر دی تھی کہ انہوں نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھ لیا کہ پیدا ہونے والے خلیفہ میں تین قوتیں باری تعالیٰ ودیعت فرمائے گا، ایک قوت شہویہ، دوسری قوت غضبیہ، تیسری قوت عقلیہ اور چونکہ قوت شہویہ اور قوت غضبیہ ان دونوں سے لوٹ مار اور قتل و غارت وغیرہ قسم قسم کے فسادات رونما ہوں گے، اس لئے فرشتوں نے باری تعالیٰ کے جواب میں یہ عرض کیا کہ اے خداوند تعالیٰ!کیا تو ایسی مخلوق کو اپنی خلافت سے سرفراز فرمائے گا جو زمین میں قسم قسم کے فساد برپا کریگا اور قتل و غارت گری سے زمین میں خوں ریزی کا طوفان لائے گا۔ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ تو ہم فرشتوں میں سے کسی کو اپنا خلیفہ بنا دے۔ کیونکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح پڑھتے ہیں اور تیری تقدیس اور پاکی کا چرچا کرتے رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر فرشتوں کو خاموش کردیا کہ میں جس مخلوق کو خلیفہ بنا رہا ہوں اس میں جو جو مصلحتیں اور جیسی جیسی حکمتیں ہیں ان کو بس میں ہی جانتا ہوں تم فرشتوں کو ان حکمتوں اور مصلحتوں کا علم نہیں ہے۔
وہ مصلحتیں اور حکمتیں کیا تھیں؟ اس کا پورا پورا علم تو صرف عالم الغیوب ہی کو ہے۔ مگر ظاہری طور پر ایک حکمت اور مصلحت یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے بدن میں قوت شہویہ و قوت غضبیہ کو فساد و خوں ریزی کا منبع اور سرچشمہ سمجھ کر ان کو خلافت کا اہل نہیں سمجھا۔ مگر فرشتوں کی نظر اس پر نہیں پڑی کہ حضرت آدم علیہ السلام میں قوت شہویہ اور قوت غضبیہ کے ساتھ ساتھ قوت عقلیہ بھی ہے اور قوت عقلیہ کی یہ شان ہے کہ اگر وہ غالب ہوکر قوت شہویہ اور قوت غضبیہ کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنا لے تو قوت شہویہ و قوت غضبیہ بجائے فساد و خوں ریزی کے ہر خیر و خوبی کا منبع اور ہر قسم کی صلاح و فلاح کا سرچشمہ بن جایا کرتی