Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
248 - 414
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور یاد کروجب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔ بولے کیا ایسے کو نائب کریگا جو اس میں فساد پھیلائے اور خون ریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کر کے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تونے ہمیں سکھایا۔ بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے۔ فرمایا اے آدم بتا دے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتا دیئے فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافرہو گیا۔ 

درسِ ہدایت:۔ان آیاتِ کریمہ سے مندرجہ ذیل ہدایت کے اسباق ملتے ہیں۔

(۱)اللہ تعالیٰ کی شان
فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ
ہے۔یعنی وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے نہ کوئی اس کے ارادہ میں دخل انداز ہو سکتا ہے نہ کسی کی مجال ہے کہ اس کے کسی کام میں چون و چرا کرسکے۔ مگر اس کے باوجود حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق و خلافت کے بارے میں خداوند قدوس نے ملائکہ کی جماعت سے مشورہ فرمایا۔ اس میں یہ ہدایت کا سبق ہے کہ باری تعالیٰ جو سب سے زیادہ علم و قدرت والا ہے اور فاعل مختار ہے جب وہ اپنے ملائکہ سے مشورہ فرماتا ہے تو بندے جن کا علم اور اقتدار و اختیار بہت ہی کم ہے تو انہیں بھی چاہے کہ وہ جس کسی کام کا ارادہ کریں تو اپنے مخلص دوستوں، اور صاحبان عقل ہمدردوں سے اپنے کام کے بارے میں مشورہ کرلیا کریں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا مقدس دستور ہے۔

(۲)فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں یہ کہا کہ وہ فسادی اور خوں ریز
Flag Counter