پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مخاطب فرما کر ارشاد فرمایا کہ اے آدم تم ان فرشتوں کو تمام چیزوں کے نام بتاؤ۔ تو حضرت آدم علیہ السلام نے تمام اشیاء کے نام اور ان کی حکمتوں کا علم فرشتوں کو بتا دیا جس کو سن کر فرشتے متعجب و محو حیرت ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ:اے فرشتو! کیا میں نے تم سے یہ نہیں فرما دیا تھا کہ میں آسمان و زمین کی چھپی ہوئی تمام چیزوں کو جانتا ہوں اور تم جو علانیہ یہ کہتے تھے کہ آدم فساد برپا کریں گے اس کو بھی میں جانتا ہوں اور تم جو خیالات اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے تھے کہ کوئی مخلوق تم سے بڑھ کر افضل نہیں پیدا ہو گی، میں تمہارے دلوں میں چھپے ہوئے ان خیالات کو بھی جانتا ہوں۔
پھر حضرت آدم علیہ السلام کے فضل و کمال کے اظہار و اعلان کے لئے اور فرشتوں سے ان کی عظمت و فضیلت کا اعتراف کرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سب فرشتوں کو حکم فرمایا کہ تم سب حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو چنانچہ سب فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا لیکن ابلیس نے سجدہ سے انکار کردیا اور تکبر کیا تو کافر ہو کر مردودِ بارگاہ ہو گیا۔
اس پورے مضمون کو قرآن مجید نے اپنے معجزانہ طرزِ بیان میں اس طرح ذکر فرمایا ہے: