Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
246 - 414
ملائکہ:اے باری تعالیٰ کیا تو زمین میں ایسے شخص کو اپنی خلافت و نیابت کے شرف سے سرفراز فرمائے گا جو زمین میں فساد برپا کریگا اور قتل و غارت گری سے خوں ریزی کا بازار گرم کریگا؟ اے خداوند تعالیٰ! اس شخص سے زیادہ تیری خلافت کے حق دار تو ہم ملائکہ کی جماعت ہے، کیونکہ ہم ملائکہ نہ زمین میں فساد پھیلائیں گے، نہ خوں ریزی کریں گے بلکہ ہم تیری حمد و ثناء کے ساتھ تیری سبوحیت کا اعلان اور تیری قدوسیت اور پاکی کا بیان کرتے رہتے ہیں اور تیری تسبیح و تقدیس سے ہر لحظہ و ہر آن رطب اللسان رہتے ہیں اس لئے ہم فرشتوں کی جماعت ہی میں سے کسی کے سرپر اپنی خلافت و نیابت کا تاج رکھ کر اس کو ''خلیفۃ اللہ''کے معزز لقب سے سربلند فرما۔

اللہ تعالیٰ:اے فرشتو!آدم (علیہ السلام)کے خلیفہ بنانے میں جو حکمتیں اور مصلحتیں ہیں ان کو میں ہی جانتا ہوں، تم گروہِ ملائکہ ان حکمتوں اور مصلحتوں کو نہیں جانتے۔

فرشتے باری تعالیٰ کے اس ارشاد کو سن کر اگرچہ خاموش ہوگئے مگر انہوں نے اپنے دل میں یہ خیال چھپائے رکھا کہ اللہ تعالیٰ خواہ کسی کو بھی اپنا خلیفہ بنا دے مگر وہ فضل و کمال میں ہم فرشتوں سے بڑھ کر نہ ہو گا۔ کیونکہ ہم ملائکہ فضیلت کی جس منزل پر ہیں وہاں تک کسی مخلوق کی بھی رسائی نہ ہو سکے گی۔ اس لئے فضیلت کے تاجدار بہرحال ہم فرشتوں کی جماعت ہی رہے گی۔

 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما کر تمام چھوٹی بڑی چیزوں کا علم ان کو عطا فرما دیا اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ اور ملائکہ کا حسب ذیل مکالمہ ہوا۔

اللہ تعالیٰ:اے فرشتو! اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو کہ تم سے افضل کوئی دوسری مخلوق نہیں ہو سکتی تو تم تمام ان چیزوں کے نام بتاؤ جن کو میں نے تمہارے پیش نظر کر دیا ہے۔

ملائکہ:اے اللہ تعالیٰ!تو ہر نقص و عیب سے پاک ہے ہمیں تو بس اتنا ہی علم ہے جو تونے ہمیں عطا فرما دیا ہے اس کے سوا ہمیں اور کسی چیز کا کوئی علم نہیں ہے ہم بالیقین یہ جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ بلاشبہ علم و حکمت کا خالق و مالک تو صرف توہی ہے۔