Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
245 - 414
فرما کر مردوں کو تنبیہ فرما دی کہ اے مردو! تم یہ ناز نہ کرو کہ اگر تم نہ ہوتے تو انسانوں کی پیدائش نہیں ہو سکتی تھی۔ دیکھ لو! ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا فرمادیا۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے مٹی سے پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں کا منہ بند فرمادیا کہ اے عورتو! اور مردو! تم کبھی بھی اپنے دل میں خیال نہ لانا کہ اگر ہم دونوں نہ ہوتے تو انسانوں کی جماعت پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ دیکھ لو!حضرت آدم علیہ السلام کے نہ باپ ہیں نہ ماں، بلکہ ہم نے ان کو مٹی سے پیدا فرمادیا۔سبحان اللہ!سچ فرمایا اللہ جل جلالہ نے کہ
اللہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّہُوَ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ ﴿16﴾ (پ 13،الرعد:16)
ترجمہ کنزالایمان:۔ اللہ ہر چیز کا بنا نے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے 

وہ جس کو چاہے اور جیسے چاہے اور جب چاہے پیدا فرما دیتا ہے۔ اس کے افعال اور اس کی قدرت کسی اسباب و علل، اور کسی خاص طور طریقوں کی بندشوں کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ
         فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ
ہے۔

     یعنی وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے (پ۳۰،البروج:۱۶)۔اس کی شان
یَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَاءُ وَیَفْعَلُ اللہُ مَا یُرِیْد
ہے۔ یعنی جس چیز اور جس کام کا وہ ارادہ فرماتا ہے اسکو کرڈالتا ہے۔ نہ کوئی اسکی مشیت وارادہ میں دخل انداز ہو سکتا ہے، نہ کسی کو اسکے کسی کام میں چون و چرا کی مجال ہو سکتی ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲)خلافتِ آدم علیہ السلام
حضرت آدم علیہ السلام کا لقب ''خلیفۃ اللہ''ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی خلافت سے سرفراز فرمانے کا ارادہ فرمایا تو اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ اور فرشتوں میں جو مکالمہ ہوا وہ بہت ہی تعجب خیز ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی فکر انگیز و عبرت آموز بھی ہے، جو حسب ذیل ہے:

اللہ تعالیٰ:''اے فرشتو! میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں جو میرا نائب بن کر زمین میں میرے احکام کو نافذ کریگا۔
Flag Counter