Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
244 - 414
قدرت و حکمت اور اس کی عظیم الشان خلاّقیت کا نشانِ اعظم ہے۔

سبحان اللہ! خداوند ِ قدوس کی شانِ خالقیت کی عظمت کا کیا کہنا؟ جس خلّاقِ عالم نے کرسی و عرش اور لوح و قلم اور زمین و آسمان کو ''کُن'' فرما کر موجود فرما دیا اس کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ کے حضور خلقتِ انسانی کی بھلا حقیقت و حیثیت ہی کیا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تخلیق انسان اس قادر مطلق کا وہ تخلیقی شاہکار ہے کہ کائنات عالم میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ کیونکہ وجود انسان عالم خلق کی تمام مخلوقات کے نمونوں کا ایک جامع مرقع ہے۔ اللہ اکبر!کیا خوب ارشاد فرمایا۔ مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ  ؎
       اَتَحْسِبُ اِنَّکَ جِرْمٌ صَغِیْرٌ 		وَفِیْکَ اِنْطَوَی الْعَالَمُ الْاَکْبَرُ
ترجمہ:۔ اے انسان! کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے؟ حالانکہ تیری عظمت کا یہ حال ہے کہ تیرے اندر عالم اکبر سمٹا ہوا ہے۔

(۲)ممکن تھا کہ کوئی مرد یہ خیال کرتا کہ اگر ہم مردوں کی جماعت نہ ہوتی تو تنہا عورتوں سے کوئی انسان پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی طرح ممکن تھا کہ عورتوں کو یہ گمان ہوتا کہ اگر ہم عورتیں نہ ہوتیں تو تنہا مردوں سے کوئی انسان پیدا نہ ہوتا۔ اسی طرح ممکن تھا کہ عورت و مرد دونوں مل کر یہ ناز کرتے کہ اگر ہم مردوں اور عورتوں کا وجود نہ ہوتا تو کوئی انسان پیدا نہیں ہوسکتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے چاروں طریقوں سے انسانوں کو پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں دونوں کا منہ بند کردیا کہ دیکھ لو، ہم ایسے قادر و قیوم ہیں کہ حضرت حواء علیہا السلام کو تنہا مرد یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا فرما دیا۔ لہٰذا اے عورتو! تم یہ گمان مت رکھو کہ اگر عورتیں نہ ہوتیں تو کوئی انسان پیدا نہ ہوتا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا
Flag Counter