Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
243 - 414
درسِ ہدایت:۔حضرت آدم و حواء علیہما السلام کی تخلیق کا واقعہ مضامین قرآن مجید کے ان عجائبات میں سے ہے جس کے دامن میں بڑی بڑی عبرتوں اور نصیحتوں کے گوہر آبدار کے انبار پوشیدہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا اور حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا فرمایا۔ قرآن کے اس فرمان سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خلاّق عالم جل جلالہ نے انسانوں کو چار طریقوں سے پیدا فرمایا ہے:

(اول)یہ کہ مرد و عورت دونوں کے ملاپ سے ،جیسا کہ عام طور پر انسانوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں صاف صاف اعلان ہے کہ
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ٭ۖ  (پ29،الدھر : 2)
ترجمہ کنزالایمان:۔بےشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سے 

(دوم)یہ کہ تنہا مرد سے ایک انسان پیدا ہو۔ اور وہ حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا فرمادیا۔

(سوم)یہ کہ تنہا ایک عورت سے ایک انسان پیدا ہو۔ اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو کہ پاک دامن کنواری بی بی مریم علیہا السلام کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔

(چہارم)یہ کہ بغیر مرد و عورت کے بھی ایک انسان کو خداوند ِ قدوس عزوجل نے پیدا فرما دیا اور وہ انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مٹی سے بنا دیا۔

ان واقعات سے مندرجہ ذیل اسباق کی طرف راہنمائی ہوتی ہے۔

(۱)خداوند ِ قدوس ایسا قادر و قیوم اور خلاّق ہے کہ انسانوں کو کسی خاص ایک ہی طریقے سے پیدا فرمانے کا پابند نہیں ہے، بلکہ وہ ایسی عظیم قدرت والا ہے کہ وہ جس طرح چاہے انسانوں کو پیدا فرما دے۔ چنانچہ مذکورہ بالا چار طریقوں سے اس نے انسانوں کو پیدا فرمادیا۔ جو اس کی
Flag Counter