یعنی خوب ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کو پڑھو۔
اس میں کئی فائدے ہیں،اولاً تو اس سے قرآن مجید کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ اور ثانیاً قرآن مجید کے عجائب و غرائب کو سوچنا اور معانی کو سمجھنا ہی تلاوت کا مقصود اعظم ہے اور یہ ترتیل کے بغیر دشوار ہے۔
(۵)بوقت تلاوت ہر لفظ کے معانی پر نظر رکھے اور وعدہ و وعید کو سمجھنے کی کوشش کرے اور ہر خطاب میں اپنے کو مخاطب تصور کرے اور امر و نہی اور قصص و حکایات میں اپنے آپ کو مرجع خطاب سمجھے اور احکام پر عمل پیرا ہونے اور ممنوعات سے باز رہنے کا پختہ ارادہ کرلے۔
(۶)دورانِ تلاوت جس جگہ جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر آئے یا حفظ و امان اور سلامتی ایمان یا کسی بھی پسندیدہ چیز کا ذکر آئے تو ٹھہر کر دعا کرے اور جس جگہ جہنم اور اس کے عذابوں کا ذکر آئے یا ان جیسی کسی بھی باعث خوف چیز کا تذکرہ آئے تو ٹھہر کر ان چیزوں سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگے اور خوف ِ الٰہی عزوجل سے رو پڑے اورا گررونا نہ آئے تو کم از کم رونے کی صورت بنالے۔
(۷)رات کے وقت تلاوت کی کثرت کرے کیونکہ اس وقت ذہن پر سکون اور دل مطمئن ہوتا ہے۔ تلاوت کے لئے سب سے افضل وقت سال بھر میں رمضان شریف کے آخری دس ایام اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ اس کے بعد جمعہ پھر دو شنبہ پھر پنج شنبہ اور رات میں تلاوت کا بہترین وقت مغرب اور عشاء کے درمیان ہے اور اس کے بعد نصف شب کے بعد