| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن پانچ طریقوں پر نازل ہوا۔ حلال و حرام و محکم و متشابہ اور امثال۔ تو تم لوگ حلال کو حلال جانو اور حرام کو حرام جانو اور محکم پر عمل کرو اور متشابہ پر ایمان لاؤ اور مثلوں (گزشتہ امتوں کے قصوں اور مثالوں)سے عبرت حاصل کرو۔ قرآن عظیم کے مذکورہ بالا پانچوں مضامین پر مطلع ہونے کے لئے ضروری ہے کہ قرآن پاک کو بغور اور بار بار سمجھ کر پڑھاجائے۔ اسی لئے تلاوتِ قرآن مجید کا اس قدر زیادہ ثواب ہے کہ ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں یعنی مثلاً کسی نے صرف المۤ پڑھا اور اس کی تلاوت مقبول ہو گئی تو اس کو تیس نیکیاں ملیں گی کیونکہ اس نے قرآن کے تین حرفوں کو پڑھا ہے۔
تلاوت کے چند آداب
(۱) مسواک کر کے صحیح طریقے سے وضو کرلے اور قبلہ رو ہو کر بیٹھ جائے اور
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ؕ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
پڑھ کر الفاظ و معانی میں غوروفکر کرتے ہوئے دل کو پوری طرح متوجہ کر کے خشوع و خضوع اور نہایت عجز و انکساری کے ساتھ تلاوت میں مشغول ہواور نہ بہت بلند آواز سے پڑھے اور نہ بہت پست آواز کرے۔ بلکہ درمیانی آواز سے پڑھے۔ (۲)بہتر یہ ہے کہ دیکھ کر تلاوت کرے کیونکہ قرآن مجید کو دیکھنا بھی عبادت ہے اور عبادتوں میں ثواب بھی دوگنا ملتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس نے دیکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کی اس کے لئے دو ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور جس نے زبانی پڑھا اس کے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔
(کنزالعمال،کتاب الاذکار،قسم الاقوال،الباب فی تلاوۃالقرآن الخ رقم۲۳۰۱،ج۱،ص۲۶۰)