Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
236 - 414
اور دن میں سب سے عمدہ صبح کا وقت ہے۔

(۸)خوش الحانی اور تجوید کے ساتھ حروف کی صحیح ادائیگی اور اوقاف کی رعایت کرتے ہوئے تلاوت کرے مگر اس کا لحاظ رہے کہ خوش الحانی کے لئے قواعد موسیقی اور گانے کے لہجوں کا ہرگز ہرگز استعمال نہ کرے۔

(۹)تلاوت کے وقت قرآن کریم کی عظمت پر نظر رکھے اور آیت کریمہ
لَوْ اَنۡزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہِ ؕ 

                        (پ28،الحشر :21)
یعنی اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرورتو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے ۔ آیت کے اس مضمون کو بوقت تلاوت اپنے ذہن میں حاضر رکھے اور خوف ِ الٰہی سے بھرپور ہو کر نہایت عاجزی کے ساتھ تلاوت کرے۔

(۱۰)جو آیتیں اپنے حال کے مطابق ہوں، ان کو بار بار پڑھنا چاہے اور قرآن عظیم پڑھتے وقت یہ خیال جمائے کہ گویا خداوند ِ تعالیٰ کے حضور میں پڑھ رہا ہے۔ جب اس منزل پر پہنچ جائے تو یہ تصور جمائے کہ گویا رب کریم مجھ ہی سے خطاب فرما رہا ہے اور اس ترقی کی انتہا یہ ہے کہ یہ تصور پیدا ہوجائے کہ قرآن عظیم پڑھنے والا گویا اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات و افعال کو اس کے کلام میں دیکھ رہا ہے۔ لیکن یہ بلند مرتبہ صدیقین کے لئے مخصوص ہے ہرکس و ناکس کو یہ حاصل نہیں ہوتا۔

(۱۱)جب تنہائی میں ہو تو درمیانی آواز سے تلاوت کرنا بہتر ہے۔ لیکن اگر بلند آواز سے تلاوت کرنے میں ریاکاری کا خوف ہو یا کسی نمازی کی نماز میں خلل کا اندیشہ ہو یا کچھ لوگ گفتگو میں مصروف ہیں اور ان کے تلاوت نہ سننے کا گمان ہو تو ان صورتوں میں قرآن مجید کو آہستہ پڑھنا بہتر ہے۔ ایسے مواقع کے لئے حدیثوں میں وارد ہوا ہے کہ ''پوشیدہ عمل''ظاہری عمل سے ستر گناہ
Flag Counter