| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
کے پاس لے جا رہے ہیں۔ یہ سن کر ان بزرگ نے فرمایا کہ سبحان اللہ!ایک اللہ عزوجل کے ولی کے لئے تم لوگ ایک اللہ عزوجل کے دشمن سے مدد طلب کررہے ہو؟ قارورہ پھینک کر واپس جاؤ اور محمد بن سماک علیہ الرحمۃ سے کہہ دو کہ مقام درد پر
وَ بِالْحَقِّ اَنۡزَلْنٰہُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ ؕ (پ15،بنی اسرآئیل:105)
پڑھ کر دم کریں۔ یہ فرما کر بزرگ غائب ہو گئے اور لوگوں نے واپس ہو کر حضرت محمد سماک علیہ الرحمۃ سے ذکر کیا تو آپ نے مقام درد پر ہاتھ رکھ کر آیت کے ان دونوں جملوں کو پڑھا تو فوراً ہی آرام ہو گیا۔ پھر حضرت محمد بن سماک علیہ الرحمۃ نے لوگوں سے فرمایا کہ وہ بزرگ جنہوں نے تم لوگوں کو یہ وظیفہ بتایا، تمہیں یہ خبر ہے کہ وہ کون بزرگ تھے؟ لوگوں نے کہا کہ جی نہیں۔ ہم لوگوں نے انہیں نہیں پہچانا۔ تو حضرت محمد بن سماک علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ وہ بزرگ حضرت خضر علیہ السلام تھے۔
(تفسیر مدارک التنزیل، ج۳، ص ۱۹۵، پ ۱۵،بنی اسرائیل :۱۰۵)
قرآن مجید کی آیت کا اتنا سا ٹکڑا ہر مرض کی مکمل دوا اور مجرب علاج ہے۔ مرض کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر پڑھ دیا جائے تو بیماری دور ہوجاتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا پابند شریعت اور صدق مقال و رزق حلال پر کاربند ہو۔ بلاشبہ یہ آیت شفاء امراض کے لئے قرآن مجید کے عجائب میں سے ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ
تلاوت کی اہمیت و آداب
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلٰی خَمْسَۃِ اَوْجُہٍ حَلاَلٍ وَحَرَامٍ وَمُحْکَمٍ وَمُتَشَابِہٍ وَاَمْثَالٍ فَاَحِلُّوا الْحَلاَلَ وَحَرِّمُوا الْحَرَامَ وَعَمِلُوْا بِالْمُحْکَمِ وَاٰمَنُوْا بِالْمُتَشَابِہٖ وَاعْتَبِرُوْا بِالْاَمْثَالِ۔
(مشکاۃ المصابیح،کتاب الإیمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،الفصل الثانی،ج۱،ص۹۹،رقم۱۸۲)