روایت ہے کہ لبید بن اعصم یہودی اور اس کی بیٹیوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کردیا تھا جس کا اثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمودار ہوا۔ لیکن آپ کے قلب اور عقل و اعتقاد پر کچھ بھی اثر نہیں ہو سکا۔ چند روز کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام حاضر خدمت ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کردیا ہے اور جادو کا جو کچھ سامان ہے وہ فلاں کنوئیں میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ انہوں نے کنوئیں کا پانی نکال کر پتھر اٹھایا تو اس کے نیچے سے کھجور کے گابھے کی تھیلی برآمد ہوئی۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک جو کنگھی سے ٹوٹے تھے اور کنگھی کے ٹوٹے ہوئے کچھ دندانے اور ایک ڈوریا کمان کا چلہ جس میں گیارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ایک موم کا پُتلاجس میں گیارہ سوئیاں چبھی تھیں۔ یہ سب سامان پتھر کے نیچے سے نکلا اور یہ سب سامان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔
اس کے بعد قرآن مجید کی دونوں سورتیں
نازل ہوئیں۔ ان دونوں سورتوں میں گیارہ آیتیں ہیں۔ ہر ایک آیت کے پڑھنے سے ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ سب گرہیں کھل گئیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام