چکے تھے، آج یہ سب کے سب دس بارہ ہزار مہاجرین و انصار کے لشکر کی حراست میں مجرم بنے ہوئے کھڑے کانپ رہے تھے اور اپنے دلوں میں یہ سوچ رہے تھے کہ شاید آج ہماری لاشوں کو کتوں سے نچوا کر ہماری بوٹیاں چیلوں اور کوؤں کو کھلا دی جائیں گی اور انصار و مہاجرین کی غضب ناک فوجیں ہمارے بچے بچے کو خاک و خون میں ملا کر ہماری نسلوں کو نیست و نابود کر ڈالیں گی اور ہماری بستیوں کو تاخت و تاراج کر کے تہس نہس کردیں گی ،مگر ان سب مجرمین کو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر معاف فرما دیا کہ انتقام تو کیسا؟ بدلا تو کہاں کا؟ آج تم پر کوئی ملامت بھی نہیں۔ اے آسمان بول! اے زمین بتا! اے چاند و سورج تم بولو! کیا تم نے روئے زمین پر ایسا فاتح اور رحم دل شہنشاہ کبھی دیکھا ہے؟ یا کبھی سنا ہے؟ سن لو تمہارے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سوا اور کوئی فاتح نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر کمال میں بے مثل و بے مثال ہیں۔
مسلمانو!یہ ہے ہمارے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوئہ حسنہ اور سیرت مبارکہ۔ لہٰذا ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوئہ حسنہ اور سیرت مقدسہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے کا جذبہ اپنے دل سے نکال کر اپنے دشمنوں کو درگزر کرنے اور معاف کردینے کی کوشش کریں۔ کیونکہ لوگوں کی تقصیرات اور خطاؤں کو معاف کردینا، یہ ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے اور یہی امت کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی ہے۔ جیسا کہ آپ گزشتہ صفحات میں یہ حدیث پڑھ چکے ہیں کہ