| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ اپنی اونٹنی ''قصواء''پر سوار تھے اور آپ ایک سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ اور بخاری میں ہے کہ آپ کے سر پر ''مغفر''تھا۔ آپ کے ایک جانب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسری جانب اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے چاروں طرف جوش میں بھرا ہوا ہتھیاروں میں ڈوبا ہوا لشکر تھا جس کے درمیان کوکبہ نبوی تھا۔ اس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ سورہ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے اس طرح سر جھکائے ہوئے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کا سر اونٹنی کے پالان سے لگ لگ جاتا تھا۔ آپ کی یہ کیفیت تواضع خداوند ِ قدوس کا شکر ادا کرنے اور اس کی بارگاہ ِ عظمت میں اپنی عجز و نیازمندی کا اظہار کرنے کے لئے تھی۔
(زرقانی، ج ۲،ص ۳۲۰۔ ۳۲۱)
بیت اللہ میں داخلہ:۔پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر اور حضرت اُسامہ بن زید کو اونٹنی کے پیچھے بٹھا کر مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ کعبہ کے کلید بردار بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے مسجد حرام میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور کعبہ کا طواف کیا اور حجر ِ اسود کو بوسہ دیا۔
(بخاری شریف، کتاب المغازی، باب دخول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اعلیٰ مکۃ، رقم ۴۲۸۹،ج۵،ص۱۴۸۔۱۴۹)
کعبہ کے اندرونِ حصار تین سو ساٹھ بتوں کی قطار تھی۔ آپ خود بہ نفس نفیس ایک چھڑی لے کر کھڑے ہوئے اور ان بتوں کو چھڑی کی نوک سے ٹھونکے مار مار کر گراتے جاتے تھے۔ اور
''جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ''
کی آیت تلاوت فرماتے تھے۔ یعنی حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کی چیز تھی۔
(بخاری شریف، کتاب المغازی، باب این رکز النبی صلی اللہ علیہ وسلم الرایۃ یوم الفتح، رقم الحدیث ۴۲۸۷، ج۵، ص ۱۴۸ )