Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
224 - 414
انسانوں نے حرم الٰہی کے احترام کو بھی خاک میں ملا دیا اور حرم کعبہ میں بھی ظالمانہ طور پر بنو خزاعہ کا خون بہایا۔ اس حملہ میں بنو خزاعہ کے تئیس آدمی قتل ہو گئے۔ اس طرح اہل مکہ نے اپنی اس حرکت سے حدیبیہ کے معاہدہ کو توڑ ڈالا۔ اور یہی فتح مکہ کی تمہید ہوئی۔

چنانچہ ۱۰ رمضان   ۸ھ ؁کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے دس ہزار لشکر پرانوار ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مدینہ سے چلتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام روزہ دار تھے لیکن جب آپ مقام ''کدید'' میں پہنچے تو پانی مانگا اور اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے پورے لشکر کو دکھا کر آپ نے پانی نوش فرمایا اور سب کو روزہ چھوڑ دینے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ آپ اور آپ کے اصحاب نے سفر اور جہاد میں ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنا موقوف کردیا۔
 (بخاری شریف، کتاب المغازی، باب غزوۃ الفتح فی رمضان، رقم ۴۲۷۶، ج۵، ص ۱۴۶)
غرض فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ بانی کعبہ کے جانشین حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے سرزمین مکہ میں نزول اجلال فرمایا اور حکم دیا کہ میرا جھنڈا مقام ''حجون''(جنۃ المعلیٰ) کے پاس گاڑا جائے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے نام فرمان جاری کردیا کہ وہ فوجوں کے ساتھ مکہ کے بالائی حصہ یعنی ''کدا'' کی طرف سے مکہ میں داخل ہوں۔
 (بخاری شریف،کتاب المغازی،باب این رکزالنبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ،رقم۴۲۸۰،ج۵،ص ۱۴۷)
تاجدارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی سرزمین میں قدم رکھتے ہی جو پہلا فرمان شاہی جاری فرمایا وہ یہ اعلان تھا کہ جس کے لفظ لفظ میں رحمتوں کے دریا موجیں ماررہے ہیں:

''جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اُس کے لئے امان ہے۔ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا اُس کے لئے امان ہے جو کعبہ میں داخل ہوجائے گا اس کے لئے امان ہے۔''
اس موقع پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ابو سفیان ایک فخر پسند آدمی ہے اس کے لئے کوئی ایسی امتیازی بات فرما دیجئے کہ اس کا سر فخر سے اونچا ہوجائے تو آپ نے فرمایا کہ ''جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کے لئے امان ہے۔''

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ اپنی اونٹنی ''قصواء''پر سوار تھے اور آپ ایک سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ اور بخاری میں ہے کہ آپ کے سر پر ''مغفر''تھا۔ آپ کے ایک جانب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسری جانب اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے چاروں طرف جوش میں بھرا ہوا ہتھیاروں میں ڈوبا ہوا لشکر تھا جس کے درمیان کوکبہ نبوی تھا۔ اس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ سورہ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے اس طرح سر جھکائے ہوئے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کا سر اونٹنی کے پالان سے لگ لگ جاتا تھا۔ آپ کی یہ کیفیت تواضع خداوند ِ قدوس کا شکر ادا کرنے اور اس کی بارگاہ ِ عظمت میں اپنی عجز و نیازمندی کا اظہار کرنے کے لئے تھی۔
Flag Counter