Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
223 - 414
ترجمہ کنزالایمان:۔اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا، کیا ان کا داؤ ں تباہی میں نہ ڈالا اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں(فوجیں)بھیجیں کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے تو انہیں کرڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی(بھوسا)۔ 

درسِ ہدایت:۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی طرح کعبہ معظمہ کی حفاظت کا ذمہ بھی خداوند ِ قدوس نے اپنے ذمہ کرم پر لے رکھا ہے کہ کوئی طاغوتی طاقت نہ قرآن مجید کو فنا کرسکتی ہے نہ کعبہ کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے کیونکہ خداوند ِ کریم ان دونوں کا محافظ ونگہبان ہے۔
 (واللہ تعالٰی اعلم)
 (۶۳)فتح مکہ کی پیش گوئی
ہجرت کے وقت انتہائی رنجیدگی کے عالم میں حضور تاجدار ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے یار ِ غار صدیق جاں نثار رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر رات کی تاریکی میں مکہ سے ہجرت فرماکر اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہہ دیا تھا اور مکہ سے نکلتے وقت خدا کے مقدس گھر خانہ کعبہ پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈال کر یہ فرماتے ہوئے مدینہ روانہ ہوئے تھے کہ ''اے مکہ! خدا کی قسم! تو میری نگاہِ محبت میں تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔''اس وقت کسی کو یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ مکہ کو اس بے سروسامانی کے عالم میں خیرباد کہنے والا صرف آٹھ ہی برس بعد ایک فاتح اعظم کی شان و شوکت کے ساتھ اسی شہر مکہ میں نزولِ اجلال فرمائے گا اور کعبۃ اللہ میں داخل ہو کر اپنے سجدوں کے جمال و جلال سے خدا کے مقدس گھر کی عظمت کو سرفراز فرمائے گا۔ لیکن ہوا یہ کہ اہل مکہ نے صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو توڑ ڈالا۔ اور صلح نامہ سے غداری کر کے ''عہد شکنی'' کے مرتکب ہو گئے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حلیف بنو خزاعہ کو مکہ والوں نے بے د ردی کے ساتھ قتل کردیا۔ بے چارے بنو خزاعہ اس ظالمانہ حملے کی تاب نہ لا کر حرم کعبہ میں پناہ لینے کے لئے بھاگے تو ان درندہ صفت
Flag Counter