Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
222 - 414
ہوجاؤ۔ چنانچہ قریش نے آپ کے مشورہ پر عمل کیا۔ اس کے بعد حضرت عبدالمطلب نے کعبہ کا دروازہ پکڑ کر بارگاہ ِ الٰہی میں کعبہ کی حفاظت کے لئے خوب رو رو کر دعا مانگی اور دعا سے فارغ ہوکر آپ بھی اپنی قوم کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے۔ ابرہہ نے صبح تڑکے اپنے لشکروں کو لے کر کعبہ مقدسہ پر دھاوا بول دینے کا حکم دے دیا اور ہاتھیوں کو چلنے کے لئے اٹھایا لیکن ہاتھیوں کا پیش رو محمود جو سب سے بڑا تھا وہ کعبہ کی طرف نہ چلا جس طرف اس کو چلاتے تھے چلتا تھا مگر کعبہ مکرمہ کی طرف جب اس کو چلاتے تھے تو وہ بیٹھ جاتا تھا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے سمندر کی جانب سے پرندوں کا لشکر بھیج دیا اور ہر پرندے کے پاس تین کنکریاں تھیں، دو پنجوں میں اور ایک چونچ میں۔ ابابیلوں کے اس لشکر نے ابرہہ کی فوجوں پر اس زور کی سنگ باری کی کہ ابرہہ کی فوج بدحواس ہو کر بھاگنے لگی۔ مگر کنکریاں گو چھوٹی چھوٹی تھیں لیکن وہ قہر الٰہی کے پتھر تھے کہ پرندے جب ان کنکریوں کو گراتے تو وہ سنگریزے فیل سواروں کے خود کو توڑ کر ،سر سے نکل کر، جسم کو چیر کر، ہاتھی کے بدن کو چھیدتے ہو ئے زمین پر گرتے تھے۔ ہر کنکری پر اس شخص کا نام لکھا تھا جو اس کنکری سے ہلاک کیا گیا۔ اس طرح ابرہہ کا پورا لشکر ہلاک و برباد ہو گیا اور کعبہ معظمہ محفوظ رہ گیا۔ یہ واقعہ جس سال وقوع پذیر ہوا اس سال کو اہل عرب ''عام الفیل''(ہاتھی والا سال)کہنے لگے اور اس واقعہ سے پچاس روز کے بعد حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔
 (تفسیر خزائن العرفان، ص ۱۰۸۳،پ۳۰، الفیل)
اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرماتے ہوئے ایک سورہ نازل فرمائی جس کانام ہی ''سورہ فیل''ہے یعنی
اَلَمْ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیۡلِ ؕ﴿1﴾اَلَمْ یَجْعَلْ کَیۡدَہُمْ فِیۡ تَضْلِیۡلٍ ۙ﴿2﴾وَّ اَرْسَلَ عَلَیۡہِمْ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ۙ﴿3﴾تَرْمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ﴿4﴾۪ۙفَجَعَلَہُمْ کَعَصْفٍ مَّاۡکُوۡلٍ ٪﴿5﴾ (پ30،الفیل:1۔5)
Flag Counter