Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
221 - 414
 (۶۲)اصحاب ِ فیل و لشکر ِ ابابیل
یمن و حبشہ کا بادشاہ ''ابرہہ''تھا۔ اُس نے شہر ''صنعاء''میں ایک گرجا گھر بنایا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ حج کرنے والے بجائے مکہ مکرمہ کے صنعاء میں آئیں اور اسی گرجا گھر کا طواف کریں اور یہیں حج کا میلہ ہوا کرے۔ عرب خصوصاً قریشیوں کو یہ بات بہت شاق گزری۔ چنانچہ قریش کے قبیلہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے آپے سے باہر ہو کر صنعاء کا سفر کیا اور ابرہہ کے گرجا گھر میں داخل ہو کر پیشاب پاخانہ کردیا۔ اور اس کے درو دیوار کو نجاست سے آلودہ کرڈالا۔ اس حرکت پر ابرہہ بادشاہ کو بہت طیش آیا اور اس نے کعبہ معظمہ کو ڈھا دینے کی قسم کھالی۔ اور اس ارادہ سے اپنا لشکر لے کر روانہ ہو گیا۔ اس لشکر میں بہت سے ہاتھی تھے اور ان کا پیش رو ایک بہت بڑا کوہ پیکر ہاتھی تھا جس کا نام محمود تھا۔ ابرہہ نے اپنی فوج لے کر مکہ مکرمہ پر چڑھائی کردی اور اہل مکہ کے سب جانوروں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ جس میں عبدالمطلب کے اونٹ بھی تھے۔ یہی عبدالمطلب جو ہمارے حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا ہیں، خانہ کعبہ کے متولی اور اہل مکہ کے سردار تھے۔ یہ بہت ہی رعب دار اور نہایت ہی جسیم و باشکوہ آدمی تھے۔ یہ ابرہہ کے پاس آئے، ابرہہ نے ان کی بہت تعظیم کی اور آنے کا مقصد پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تم میرے اونٹوں کو مجھے واپس دے دو۔ یہ سن کر ابرہہ نے کہا کہ مجھے بڑا تعجب ہو رہا ہے کہ میں تو تمہارے کعبہ کو ڈھانے کے لئے فوج لے کر آیا ہوں جو تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا ایک بہت مقدس و محترم مقام ہے۔ آپ نے اس کے بارے میں کچھ بھی مجھ سے نہیں کہا، صرف اپنے اونٹوں کا مطالبہ کررہے ہیں؟ حضرت عبدالمطلب نے فرمایا کہ میں اپنے اونٹوں ہی کا مالک ہوں اس لئے اونٹوں کے لئے کہہ رہا ہوں اور کعبہ کا جو مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا۔ مجھے اس کی کوئی فکر نہیں۔ ابرہہ نے آپ کے اونٹوں کو واپس کردیا۔ پھر آپ نے قریش سے فرمایا کہ تم لوگ پہاڑوں کی گھاٹیوں اور چوٹیوں پر پناہ گزیں
Flag Counter