Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
220 - 414
ترجمہ کنزالایمان:۔کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا وہ ارم حد سے زیادہ طول والے کہ ان جیسا شہروں میں پیدا نہ ہوا اور ثمود جنہوں نے وادی میں پتھر کی چٹانیں کاٹیں اور فرعون کہ چومیخا کرتا(سخت سزائیں دیتا) جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی پھر ان میں بہت فساد پھیلایا تو ان پر تمہارے رب نے عذاب کا کوڑا بقوت مارا۔
درسِ ہدایت:۔
اللہ تعالیٰ کو بندوں کی سرکشی اور تکبر و غرور بے حد ناپسند ہے اس لئے خداوند ِ قدوس کا دستور ہے کہ ہر سرکش اور متکبر قوم جس نے زمین میں اپنی سرکشی اور ظلم و عدوان سے فساد پھیلایا۔ اس قوم کو قہر الٰہی نے کسی نہ کسی عذاب کی صورت میں ظاہر ہو کر ہلاک و برباد کردیا۔ شداد اور قوم عاد کے دوسرے افراد سب اپنی سرکشی اور تکبر کی وجہ سے خدا کے مبغوض ٹھہرے اور جب ان لوگوں کا تمرد اور ظلم و عدوان اس درجہ بڑھ گیا کہ روئے زمین کا ذرہ ذرہ ان کے گناہوں اور بداعمالیوں سے بلبلا اُٹھا تو خداوند ِ قہار و جبار کے عذابوں نے ان سب سرکشوں اور ظالموں کو تباہ و برباد کرکے صفحہ ہستی سے حرف ِ غلط کی طرح مٹا دیا۔ لہٰذا ان قوموں کے عروج و زوال اور ان لوگوں کے عذاب ِ الٰہی سے پامال ہونے کی داستانوں سے عبرت و نصیحت حاصل کرنی چاہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں ان اقوام کے انجام کے ذکر کا مقصد ہی یہ ہے کہ اہل قرآن ان کی داستان سن کر عبرت پکڑیں اور خوف ِ الٰہی سے ہر دم لرزہ براندام رہیں۔ مسلمانوں کو لازم ہے کہ قرآن مجید کی بکثرت تلاوت کریں اور اس کا ترجمہ بھی پڑھا کریں اور ان اقوام کی ہلاکت سے عبرت حاصل کریں۔ ہر وقت توبہ و استغفار کرتے رہیں اور ہر قسم کی بداعتقادیوں اور بداعمالیوں سے ہمیشہ بچتے رہیں۔ اعمال صالحہ کی کوشش کرتے رہیں اور مال و دولت کے غرور و گھمنڈ میں سرکشی و تکبر نہ کریں بلکہ ہمیشہ دل میں خوف ِ خدا عزوجل رکھ کر تواضع و انکساری کو اپنی عادت بنائیں اور جہاں تک ہو سکے اپنی زندگی میں اچھے اعمال کرتے رہیں۔
واللہ ھُوَ الموفق۔
Flag Counter