Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
219 - 414
عیش و عشرت کے سامان اس شہر میں جمع کردیئے۔ جب یہ شہر مکمل ہوا تو شداد بادشاہ اپنے اعیان سلطنت کے ساتھ اس کی طرف روانہ ہوا۔ جب ایک منزل کا فاصلہ باقی رہ گیا تو آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی جس سے اللہ تعالیٰ نے شداد اور اس کے تمام ساتھیوں کو ہلاک کردیا اور وہ اپنی بنوائی ہوئی جنت کو دیکھ بھی نہ سکا۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں حضرت عبداللہ بن قلابہ اپنے گم شدہ اونٹ کو تلاش کرتے ہوئے صحرائے عدن سے گزر کر اس شہر میں پہنچے اور اس کی تمام زینتو ں اور آرائشوں کو دیکھا مگر وہاں کوئی رہنے بسنے والا انسان نہیں ملا۔ یہ تھوڑے سے جواہرات وہاں سے لے کر چلے آئے۔ جب یہ خبر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے عبداللہ بن قلابہ کو بلا کر پورا حال دریافت کیا اور انہوں نے جو کچھ دیکھا تھا سب کچھ بیان کردیا۔ پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب ِ احباررضی اللہ عنہ کو بلا کر دریافت کیا کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا شہر موجود ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ یہ شہر شداد بن عاد نے بنایاتھا لیکن یہ سب عذابِ الٰہی سے ہلاک ہوئے اور اس قوم میں سے کوئی ایک آدمی بھی باقی نہیں رہا اور آپ کے زمانے میں ایک مسلمان جس کی آنکھیں نیلی، قد چھوٹا اور اس کے ابرو پر ایک تل ہو گا، اپنے اونٹ کو تلاش کرتے ہوئے اس ویران شہر میں داخل ہوگا ، اتنے میں عبداللہ بن قلابہ آگئے۔ تو کعب احبار نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ بخدا وہ شخص جو شداد کی بنائی ہوئی جنت کو دیکھے گا، وہ یہی شخص ہے۔
 (فسیر خزائن العرفان ،ص۱۰۷۰۔۱۰۶۹،پ۳۰،الفجر:۸)
قوم عاد اور دوسری سرکش قوموں کا حال بیان کرتے ہوئے قرآن مجید نے ارشاد فرمایا:۔
اَلَمْ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ﴿6﴾۪ۙاِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ﴿7﴾۪ۙالَّتِیۡ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُہَا فِی الْبِلَادِ ﴿8﴾۪ۙوَ ثَمُوۡدَ الَّذِیۡنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ﴿9﴾۪ۙوَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ ﴿10﴾۪ۙالَّذِیۡنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ ﴿11﴾۪ۙفَاَکْثَرُوۡا فِیۡہَا الْفَسَادَ ﴿12﴾۪ۙفَصَبَّ عَلَیۡہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ ۚ﴿ۙ13﴾ (پ30،الفجر:6۔13)
Flag Counter