Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
218 - 414
وَ یُطْعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿8﴾اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿9﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لئے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے۔ (پ29،الدھر:8۔9)

درسِ ہدایت:۔سبحان اللہ اس واقعہ سے اہل بیت نبوت کی سخاوت کا عجیب و غریب اور عدیم المثال حال معلوم ہوتا ہے۔ مسلسل تین روزے اور سحری و افطار میں صرف پانی پی کر روزے رکھنا اور خود بھوکے رہ کر روٹیاں سائلوں کو دے دینا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اللہ اکبر کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
		   بھو کے  رہتے تھے  خود  اَوروں کو کھلا  دیتے تھے

 		   کیسے صابر تھے محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھرانے والے
 (۶۱)شداد کی جنت
یہ آپ ''قوم عاد کی آندھی''کے عنوان میں پڑھ چکے ہیں کہ قوم عاد کا مورث ِ اعلیٰ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح ہے۔ اس ''عاد''کے بیٹوں میں ''شداد''بھی ہے۔ یہ بڑی شان و شوکت کا بادشاہ ہوا ہے۔ اس نے اپنے وقت میں تمام بادشاہوں کو اپنے جھنڈے کے نیچے جمع کر کے سب کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنا لیا تھا۔ اس نے پیغمبروں کی زبان سے جنت کا ذکر سن کر براہِ سرکشی دنیا میں ایک جنت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک بہت بڑا شہر بنایا جس کے محل سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کئے گئے اور زبرجد اور یاقوت کے ستون ان کی عمارتوں میں نصب کئے گئے اور ایسے ہی فرش مکانوں میں بنائے گئے۔ سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے۔ ہر محل کے گرد جواہرات سے پر نہریں جاری کی گئیں۔ قسم قسم کے درخت زینت اور سائے کے لئے لگائے گئے۔ الغرض اُ س سرکش نے اپنے خیال سے جنت کی تمام چیزیں اور ہر قسم کی
Flag Counter