اس جانور کو اسی پتھر سے مقتول فرما دے۔ یہ دعا کر کے لڑکے نے جانور کو اس پتھر سے مار دیا تو یہ بہت بڑا جانور ایک چھوٹے سے پتھر سے قتل ہو کر مرگیا اور لوگوں کا راستہ کھل گیا۔
لڑکے نے راہب سے یہ پورا واقعہ بیان کیا تو راہب نے کہا کہ اے لڑکے! خدا عزوجل کے دربار میں تیرا مرتبہ بلند ہو گیا ہے۔ لہٰذا اب تو عنقریب امتحان میں ڈالا جائے گا۔ اس لئے کسی کو میرا پَتا نہ بتانا اور امتحان کے وقت صبر کرنا۔ اس کے بعد یہ لڑکا اس قدر صاحب ِ کرامت ہو گیا کہ اس کی دعاؤں سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی شفا پانے لگے۔ رفتہ رفتہ بادشاہ کے دربار میں اس کا چرچا ہونے لگا تو بادشاہ کا ایک بہت ہی مقرب ہم نشین جو اندھا ہو گیا تھا، اس لڑکے کے پاس بہت سے ہدایا اور تحائف لے کر حاضر ہوا۔ اور اپنی بصار ت کے لئے دعا کا طالب ہوا۔ تو لڑکے نے کہا کہ اگر تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تو میں تیرے لئے دعا کروں گا۔ چنانچہ وہ ایمان لایا او رلڑکے نے اس کے لئے دعا کردی تو فوراً ہی وہ انکھیارا ہو گیا اور بادشاہ کے دربار میں گیا تو بادشاہ نے پوچھا کہ تمہاری آنکھوں میں بصارت کیسے آگئی؟ تو مقرب ہم نشین نے کہا کہ میرے رب نے مجھے بصارت عطا فرما دی ہے۔ بادشاہ نے غضب ناک ہو کر کہا کہ کیا میرے سوا بھی تمہارا کوئی رب ہے؟ تو اُس نے کہا کہ ہاں۔ اللہ تعالیٰ میرا اور تیرا دونوں کا رب ہے۔ بادشاہ نے اس کو طرح طرح کی سزائیں دے کر پوچھا کہ کس نے تجھے یہ بتایا ہے؟ تو اس نے لڑکے کا نام بتا دیا۔ پھر بادشاہ نے لڑکے کو قید کر کے اُس کو اس قدر مارا پیٹا کہ اُس نے راہب کا نام بتا دیا۔ بادشاہ نے راہب کو گرفتار کر کے اُس سے کہا کہ تم اپنے عقیدہ کو چھوڑ دو مگر راہب نے صاف صاف کہہ دیا کہ میں اپنے اس عقیدہ پر آخری دم تک قائم رہوں گا۔ یہ سن کر بادشاہ آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے راہب کے سر پر آرا چلوا کر اس کے دو ٹکڑے کردیئے۔ اس کے بعد بادشاہ نے اپنے مقرب ہم نشین کے سر پر بھی آرا چلوا دیا۔ پھر لڑکے کو سپاہیوں کے سپرد کیا اور حکم دیا کہ اس کو پہاڑ کی چوٹی پر چڑھا کر اوپر سے نیچے لڑھکا دو۔ لڑکے نے پہاڑ پر چڑھ کر