Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
211 - 414
کامیاب ہوں گے؟لہٰذا ''ان شاء اللہ تعالیٰ'' کہنا ضرور یاد رکھئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے رسول مقبول حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں بڑی تاکید کے ساتھ یہ حکم دیا ہے کہ آئندہ کے لئے جو کام بھی کرنے کو کہے تو ضرور ''ان شاء اللہ تعالیٰ'' کہہ لیجئے۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم فرمایا۔
وَلَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ﴿ۙ23﴾اِلَّا اَنۡ یَّشَآءَ اللہُ ۫ وَاذْکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ (پ15،الکہف:23)
ترجمہ کنزالایمان:۔اور ہرگز کسی بات کو نہ کہنا کہ میں کل یہ کردُوں گا مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے۔
 (۵۸)اَصحابُ الا ُخدُود کے مظالم
''اصحاب الاخدود''کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ کون لوگ تھے؟ اور ان کا کیا واقعہ تھا۔ اس بارے میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگلی امتوں میں ایک بادشاہ تھا جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور ایک جادوگر اُس کے دربار کا بہت ہی مقرب تھا۔ ایک دن جادوگر نے بادشاہ سے کہا کہ میں اب بوڑھا ہوچکا ہوں۔ لہٰذا تم ایک لڑکے کو میرے پاس بھیج دو تاکہ میں اُس کو اپنا جادو سکھا دوں۔ چنانچہ بادشاہ نے ایک ہوشیار لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیج دیا۔ لڑکا روزانہ جادوگر کے پاس آنے جانے لگا لیکن راستہ میں ایک ایماندار راہب رہتا تھا۔ لڑکا ایک دن اُس راہب کے پاس بیٹھا تو اس کی باتیں لڑکے کو بہت پسند آگئیں۔ چنانچہ لڑکا جادوگر کے پاس آنے جانے میں روزانہ راہب کے پاس بیٹھنے لگا۔ ایک دن لڑکے نے دیکھا کہ ایک بڑا اور مہیب جانور کھڑا انسانوں کا راستہ روکے ہوئے ہے۔ لڑکے نے یہ منظر دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ آج یہ ظاہر ہوجائے گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب؟ چنانچہ لڑکے نے ایک پتھر اٹھا کر یہ دعا مانگی کہ یا اللہ عزوجل! اگر تیرے دربار میں یہ مذہب جادوگر سے زیادہ مقبول و محبوب ہو تو
Flag Counter