دعا مانگی تو ایک زلزلہ آیا اور بادشاہ کے سپاہی زلزلہ کے جھٹکوں سے ہلاک ہو گئے اور لڑکا سلامتی کے ساتھ پھر بادشاہ کے سامنے آکھڑا ہو گیا۔ پھربادشاہ نے غیظ و غضب میں بھر کر حکم دیا کہ اس لڑکے کو کشتی پر بٹھا کر سمندر میں لے جاؤ اور سمندر کی گہرائی میں لے جا کر اس کو سمندر میں پھینک دو۔ چنانچہ بادشاہ کے سپاہی اس کو کشتی میں بٹھا کر لے گئے۔ پھر جب لڑکے نے دعا مانگی تو کشتی غرق ہو گئی اور سب سپاہی ہلاک ہو گئے اور لڑکا صحت و سلامتی کے ساتھ بادشاہ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور بادشاہ حیران رہ گیا۔ پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ اگر تو مجھ کو شہید کرنا چاہتا ہے تو اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ تو مجھ کو سولی پر لٹکا کر اور یہ پڑھ کر مجھے تیر مار کہ ''بِسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَامِ'' چنانچہ اسی ترکیب سے بادشاہ نے اس لڑکے کو تیر مار کر شہید کردیا۔
یہ منظر دیکھ کر ہزاروں کے مجمع نے بلند آواز سے یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ غصہ میں بوکھلا گیا اور اُس نے گڑھا کھدوا کر اُس میں آگ جلوائی۔ جب آگ کے شعلے خوب بلند ہونے لگے تو اس نے ایمانداروں کو پکڑوا کر اس آگ میں ڈالنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ ستتر مومنین کو اُس آگ میں جلا ڈالا۔ آخر میں ایک ایمان والی عورت اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے آئی اور جب بادشاہ نے اُس کو آگ میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو وہ کچھ گھبرائی تو اس کے دودھ پیتے بچے نے کہا کہ اے میری ماں! صبر کر تو حق پر ہے۔ بچے کی آواز سن کر اس کے ماں کا جذبہ ایمانی بیدار ہو گیا اور وہ مطمئن ہو گئی۔ پھر ظالم بادشاہ نے اس مومنہ کو اُس کے بچے کے ساتھ آگ میں پھینک دیا۔
بادشاہ اور اُس کے ساتھی خندق کے کنارے مومنین کے آگ میں جلنے کا منظر کرسیوں پر بیٹھ کر دیکھ رہے تھے اور اپنی کامیابی پر خوشی منا رہے تھے اور قہقہے لگا رہے تھے کہ ایک دم قہر ِ الٰہی نے ظالموں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اور وہ اس طرح کہ خندق کی آگ کے شعلے اس قدر