Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
210 - 414
آپ نے ان شاء اللہ نہیں کہا۔ غالباً آپ اس وقت کسی ایسے شغل میں تھے کہ اس کا خیال نہ رہا۔ اس ''ان شاء اللہ ''کو چھوڑ دینے کا یہ اثر ہوا کہ صرف ایک عورت حاملہ ہوئی اور اُس کے بھی ایک ناقص الخلقت (کچا بچہ)ہوا۔ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ''ان شاء اللہ ''کہہ دیا ہوتا تو ان سب عورتوں کے لڑکے پیدا ہوتے اور وہ خدا کی راہ میں جہاد کرتے۔
 (بخاری شریف، کتاب الجہاد، باب من طلب الولد للجہاد، ج۴،ص ۲۲، رقم ۲۸۱۹ )
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو اجمالاً بہت مختصر طریقے پر اس طرح بیان فرمایا ہے:۔
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیۡمٰنَ وَ اَلْقَیۡنَا عَلٰی کُرْسِیِّہٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ ﴿34﴾قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیۡ وَہَبْ لِیۡ مُلْکًا لَّا یَنۡۢبَغِیۡ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الْوَہَّابُ ﴿35﴾ (پ23،صۤ:34،35)
ترجمہ کنزالایمان:۔اور بیشک ہم نے سلیمان کو جانچا اور اس کے تخت پر ایک بے جان بدن ڈال دیا پھر رجوع لایا عرض کی اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو بیشک تو ہی بڑی دین والا۔ 

درسِ ہدایت:۔اس قرآنی واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمان کو لازم ہے کہ آئندہ کے لئے جو کام کرنے کو کہے تو ''ان شاء اللہ تعالیٰ'' ضرور کہہ دے۔ اس مقدس جملہ کی برکت سے بڑی امید ہے کہ وہ کام ہوجائے گا۔ اور ''ان شاء اللہ تعالیٰ'' چھوڑ دینے کا انجام سراسر نقصان اور ناکامی و محرومی ہے۔ غور کیجئے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جو خداوند ِقدوس کے پیارے نبی اور بے مثال بادشاہ بھی ہیں۔ مگر انہوں نے لاشعوری طور پر ان شاء اللہ تعالیٰ کہنا چھوڑ دیا تو ان کا مقصد جو اعلیٰ درجے کی عبادت تھی پورا نہیں ہوا اور وہ اس بات پر نہایت متاسف اور رنجیدہ ہو کر خدا کی طرف رجوع ہوئے ،وہ اپنی مغفرت کی دعا مانگنے لگے ،پھر بھلا ہم تم گنہگاروں کا کیا ٹھکانا ہے؟ کہ اگر ہم تم ان شاء اللہ تعالیٰ کہنا چھوڑ دیں گے تو بھلا کس طرح ہم اپنے مقصد میں
Flag Counter