| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
حضرت داؤد علیہ السلام کا ماتھا ٹھنکا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اس مقدمہ کی پیشی درحقیقت یہ میرا امتحان تھا۔ چنانچہ فوراً ہی آپ سجدہ میں گر پڑے اور خدا سے معافی مانگنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف فرما دیا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:۔
فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِکَ ؕ وَ اِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلْفٰی وَ حُسْنَ مَاٰبٍ ﴿25﴾یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیۡفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ (پ23،صۤ:25،26)
ترجمہ کنزالایمان:۔ تو ہم نے اسے یہ معاف فرمادیا اور بیشک اس کے لئے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔ اے داؤد بے شک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی۔ درسِ ہدایت:۔حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی شان بہت ہی عظیم الشان ہے اس لئے بہت ہی معمولی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی خداوند ِ قدوس کی طرف سے ان حضرات کو آگاہی دی جاتی ہے اور یہ نفوسِ قدسیہ بھی بارگاہِ خداوندی میں اس قدر مطیع اور متواضع ہوتے ہیں کہ فوراً ہی دربار خداوندی میں سجدہ ریز ہو کر عفو تقصیر کی استدعا کرنے لگتے ہیں۔مثل مشہور ہے کہ
حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ
یعنی نیک لوگوں کی نیکیاں مقربین کے لئے خطاؤں کا درجہ رکھتی ہیں۔ کیوں نہ ہو۔
جن کے رتبے ہیں سوا اُن کو سوا مشکل ہے
(۵۷)اِن شآء اللہ عزوجل چھوڑنے کا نقصان
حضرت سلیمان علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھیں۔ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ میں رات بھر اپنی ننانوے بیویوں کے پاس دورہ کروں گا اور سب کے ایک ایک لڑکا پیدا ہو گا تو میرے یہ سب لڑ کے اللہ کی ر ا ہ میں گھو ڑ و ں پر سو ا ر ہو کر جہا د کریں گے ۔ مگر یہ فر ما تے و قت