Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
200 - 414
ترجمہ کنزالایمان:۔اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر کچھ لشکر آئے تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے۔(پ21،الاحزاب:9)

درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے ہم کو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کفار کا مقابلہ جنگ میں ہو تو مسلمانوں کو کسی حال میں بھی ہرگز ہرگز مایوس نہ ہونا چاہے اور یہ یقین رکھ کر مقابلہ پر ڈٹے رہنا چاہے کہ ضرور ضرور نصرت خداوندی اور امداد غیبی مسلمانوں کی مدد کر ے گی بس شرط یہ ہے کہ اخلاص نیت کے ساتھ مسلمان ثابت قدم رہیں اور صبر و استقلال کے ساتھ میدانِ جنگ میں ڈٹے رہیں۔ چنانچہ جنگ بدر و جنگ اُحد و جنگ احزاب وغیرہ کفر و اسلام کی لڑائیوں میں یہ منظر نظر آیا کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی جب مسلمان ثابت قدم رہے تو غیب سے نصرتِ خداوندی عزوجل اور امداد غیبی نے اس طرح جلوہ دکھایا کہ دم زدن میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں کو فتح مبین حاصل ہو گئی اور کفار باوجود اپنی کثرت و شوکت کے شکست کھا کر بھاگ نکلے۔
 (واللہ تعالیٰ اعلم)
 (۵۳) قوم سبا کا سیلاب
''سبا''عرب کا ایک قبیلہ ہے جو اپنے مورث اعلیٰ سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان کے نام سے مشہور ہے اس قوم کی بستی یمن میں شہر ''صنعاء''سے چھ میل کی دوری پر واقع تھی۔ اس آبادی کی آب و ہوا اور زمین اتنی صاف اور اس قدر لطیف و پاکیزہ تھی کہ اس میں مچھر نہ مکھی نہ پسو نہ کھٹمل نہ سانپ نہ بچھو۔ موسم نہایت معتدل نہ گرمی نہ سردی۔ یہاں کے باغات میں کثیر پھل آتے تھے۔ کہ جب کوئی شخص سرپر ٹوکرا لئے گزرتا تو بغیر ہاتھ لگائے قسم قسم کے پھلوں سے اس کا ٹوکرا بھر جاتاتھا۔غرض یہ قوم بڑی فارغ البالی اور خوشحالی میں امن و سکون اور آرام و چین سے زندگی بسر کرتی تھی مگر نعمتوں کی کثرت اور خوشحالی نے اس قوم کو سرکش بنا دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی ہدایت کے لئے یکے بعد دیگرے تیرہ نبیوں کو بھیجا جو اس قوم کو خدا کی نعمتیں
Flag Counter