Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
201 - 414
یاد دلا دلا کر عذابِ الٰہی سے ڈراتے رہے۔ مگر ان سرکشوں نے خدا کے مقدس نبیوں کو جھٹلا دیا اور اس قوم کا سردار جس کا نام ''حماد''تھا وہ اتنا متکبر اور سرکش آدمی تھا کہ جب اُس کا لڑکا مر گیا تو اس نے آسمان کی طرف تھوکا اور اپنے کفر کا اعلان کردیا۔ اور اعلانیہ لوگوں کو کفر کی دعوت دینے لگا اور جو کفر کرنے سے انکار کرتا، اُس کو قتل کردیتا تھا اور خدا عزوجل کے نبیوں سے نہایت ہی بے ادبی اور گستاخی کے ساتھ کہتا تھا کہ آپ لوگ اللہ عزوجل سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نعمتوں کو ہم سے چھین لے۔ جب حماد اور اس کی قوم کا طغیان و عصیان بہت زیادہ بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر سیلاب کا عذاب بھیجا۔ جس سے ان لوگوں کے باغات اور اموال و مکانات سب غرق ہو کر فنا ہو گئے اور پوری بستی ریت کے تودوں میں دفن ہو گئی اور اس طرح یہ قوم تباہ و برباد ہو گئی کہ ان کی بربادی ملک عرب میں ضرب المثل بن گئی۔ عمدہ اور لذیذ پھلوں کے باغات کی جگہ جھاؤ اور جنگلی بیروں کے خار دار اور خوفناک جنگل اُگ گئے اور یہ قوم عمدہ اور لذیذ پھلوں کے لئے ترس گئی۔
سیلاب کس طرح آیا:۔
قوم سبا کی بستی کے کنارے پہاڑوں کے دامن میں بند باندھ کر ملکہ بلقیس نے تین بڑے بڑے تالاب نیچے اوپر بنا دیئے تھے۔ ایک چوہے نے خدا عزوجل کے حکم سے بند کی دیوار میں سوراخ کردیا اور وہ بڑھتے بڑھتے بہت بڑا شگاف بن گیا یہاں تک کہ بند کی دیوار ٹوٹ گئی اور ناگہاں زور دار سیلاب آگیا۔ بستی والے اس سوراخ اور شگاف سے غافل تھے اور اپنے گھروں میں چین کی بانسری بجا رہے تھے کہ اچانک سیلاب کے دھاروں نے ان کی بستی کو غارت کرڈالا۔ اور ہر طرف بربادی اور ویرانی کا دور دورہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم سبا کے اس ہلاکت آفریں سیلاب کا تذکرہ فرماتے ہوئے قرآن مجید میں فرمایا:۔
لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیۡ مَسْکَنِہِمْ اٰیَۃٌ ۚ جَنَّتٰنِ عَنۡ یَّمِیۡنٍ وَّ شِمَالٍ ۬ؕ کُلُوۡا مِنۡ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَ اشْکُرُوۡا لَہٗ ؕ بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّ رَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴿15﴾فَاَعْرَضُوۡا فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمْ سَیۡلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰہُمۡ
Flag Counter