کفار نے جب مدینہ کے گرد خندق کو حائل دیکھا تو حیران رہ گئے اور کہنے لگے کہ یہ تو ایسی تدبیر ہے کہ جس سے عرب کے لوگ اب تک ناواقف تھے۔ بہرحال کافروں نے خندق کے کنارے سے مسلمانوں پر تیر اندازی اور سنگباری شروع کردی۔ کہیں کہیں سے کافروں نے خندق کو پار بھی کرلیا اور جم کر لڑائی بھی ہوئی۔ مسلمان کافروں کے اس محاصرہ سے گو پریشان تھے۔ مگر ان کے عزم وا ستقلال میں بال برابر بھی فرق نہیں آیا۔ وہ اپنے اپنے مورچوں پر جم کر دفاعی جنگ لڑتے رہے۔ اچانک ایک دم اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس طرح مدد فرمائی کہ ناگہاں مشرق کی جانب سے ایک ایسی طوفان خیز اور ہلاکت انگیز شدید آندھی آئی جو قہرِقہار و غضبِ جبار بن کر لشکر کفار پر خدا کی مار بن گئی۔ دیگیں چولہوں سے الٹ پلٹ ہو کر ادھر اُدھر لڑھک گئیں۔ خیمے اکھڑ اکھڑ کر اُڑ گئے اور ہر طرف گھٹاٹوپ اندھیرا چھا گیا۔ اور شدید سردی کی لہروں نے کافروں کو جھنجھوڑ ڈالا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی فوج بھیج دی جن کے رعب و دبدبہ سے کفار کے دل لرز گئے۔ اور اُن پر ایسی دہشت و وحشت سوار ہو گئی کہ انہیں راہِ فرار اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہا۔ چنانچہ لشکر ِ کفار کے سپہ سالار ابو سفیان نے ہانپتے کانپتے ہوئے اپنے لشکر میں اعلان کردیا کہ راشن ختم ہوچکا اور موسم نہایت خراب ہے اور یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا۔ لہٰذا اب مدینہ کا محاصرہ بیکار ہے۔ یہ کہہ کر کوچ کا نقارہ بجا دیا اور بہت سا سامان چھوڑ کر میدان جنگ سے بھاگ نکلا اور دوسرے قبائل بھی تتر بتر ہو کر ادھر ادھر بھاگ گئے اور پندرہ یا چوبیس روز کے بعد مدینہ کا مطلع کفار کے گرد و غبار سے صاف ہو گیا