Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
196 - 414
مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم بھی اہل کتاب اور رومی نصاریٰ بھی اہل کتاب ،اور اہلِ فارس بھی آتش پرست اور ہم بھی بت پرست، ہمارے بھائی تمہارے بھائیوں پر غالب ہو گئے۔ اگر ہماری تمہاری جنگ ہوئی تو اسی طرح ہم بھی تم پر غالب ہوں گے۔ اس موقع پر قرآنِ مجید کی یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں غیب کی خبر دی گئی ہے:۔
الٓـمّٓ ﴿1﴾ۚغُلِبَتِ الرُّوۡمُ ۙ﴿2﴾فِیۡۤ اَدْنَی الْاَرْضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوۡنَ ۙ﴿3﴾فِی بِضْعِ سِنِیۡنَ ۬ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔رومی مغلوب ہوئے پاس کی زمین میں اور اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے چند برس میں۔(پ21،الروم:1۔4)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان آیات کو سن کر کفارِ مکہ میں یہ اعلان کرا دیا کہ خدا کی قسم رومی اہل فارس پر غلبہ پاجائیں گے۔ لہٰذا اے اہل مکہ! تم اس وقت کے نتیجہ جنگ سے خوشی نہ مناؤ۔ چونکہ بظاہر رومیوں کے فتح یاب ہونے کے اسباب دور دور تک نظر نہ آتے تھے اس لئے ''ابی بن خلف'' آپ کے بالمقابل کھڑا ہو گیا اور آپ کے اور اُس کے درمیان سو سو اونٹ کی شرط لگ گئی کہ اگر نو سال کے اندر رومی غالب نہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک سو اونٹ دیں گے اور اگر رومی غالب آجائیں تو ابی بن خلف ایک سو اونٹ دے گا۔ اُس وقت تک جوا اسلام میں حرام نہیں ہوا تھا۔ خدا کی شان کہ سات ہی برس میں قرآن کی اس غیبی خبر کی صداقت کا ظہور ہو گیا اور خالص صلح حدیبیہ کے دن   ۶ ھ؁ میں رومی اہل فارس پر غالب ہو گئے اور رومیوں نے ''مدائن''میں گھوڑے باندھے اور عراق میں ''رومیہ'' نامی شہر بسایا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شرط کے سو اونٹ ابی بن خلف کی اولاد سے وصول کرلئے کیونکہ وہ اس درمیان میں مرچکا تھا۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ شرط کے اونٹوں کو جو انہوں نے ابی
Flag Counter