Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
197 - 414
بن خلف کی اولاد سے وصول کئے ہیں سب صدقہ کردیں! اور اپنی ذات پر کچھ بھی صرف نہ کریں۔
 (مدارک التنزیل،ج۳،ص۴۵۸،پ۲۱، الروم: ۳)
درسِ ہدایت:۔فارس و روم کی جنگ میں رومی اس درجہ شکست کھا چکے تھے کہ ان کی عسکری طاقت ہی فنا ہو گئی تھی اور بظاہر اُن کے فتح یاب ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔ مگر سات ہی برس میں رومیوں کو ایسی فتح حاصل ہو گئی کہ کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ غیبی خبر آپ کی صحتِ نبوت اور قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کی روشن دلیل ہے۔ سبحان اللہ! سچ ہے۔

ہزار فلسفیوں کی چناں چنیں بدلی! خدا کی بات بدلنی نہ تھی نہیں بدلی
 (۵۲)غزوہ احزاب کی آندھی
''غزوہ احزاب '' ۴ ؁ یا    ۵ ؁ھ میں پیش آیا۔ اس جنگ کا دوسرا نام ''غزوہ خندق''بھی ہے۔ جب ''بنونضیر''کے یہودیوں کو جلاوطن کردیا گیا تو یہودیوں کے سرداروں نے مکہ جا کر کفار مکہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے کی ترغیب دلائی اور وعدہ کیا کہ ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ چنانچہ ان یہودیوں نے کثیر تعداد میں ہتھیار اور رقم دے کر کفار مکہ کو مدینہ پر حملہ کرنے پر ابھار دیا۔ اور ابو سفیان نے مشرکین و یہودیوں کے بہت سے قبائل کو جمع کر کے ایک عظیم فوج کے ساتھ مدینہ پر دھاوا بول کر حملہ کردیا۔ مکہ سے قبیلہ ''خزاعہ'' کے چند لوگوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کی ان تیاریوں کی اطلاع دے دی تو آپ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے مدینہ کے گرد ایک خندق کھدوانی شروع کردی۔ اس خندق کو کھودنے میں مسلمانوں کے ساتھ خود رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کام کیا۔ مسلمان خندق کھود کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ مشرکین ایک لشکر ِ جرار لے کر ٹوٹ پڑے اور مدینہ طیبہ پر ہلہ بول دیا۔ اور تین طرف سے کافروں کا لشکر اس زور و شور کے ساتھ امنڈ پڑا کہ شہر
Flag Counter