Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
195 - 414
غرور سے اتراتا ہوا قوم کے سامنے آیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بدگوئی اور ایذاء رسانی کرنے لگا۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ اس کو قرآن کی زبان سے سنئے اور خدا کی اس قاہرانہ گرفت پر خوف ِ الٰہی سے تھرّاتے رہیے۔ اللہ اکبر۔

قارون زمین میں دھنس گیا:۔
فَخَسَفْنَا بِہٖ وَ بِدَارِہِ الْاَرْضَ ۟ فَمَا کَانَ لَہٗ مِنۡ فِئَۃٍ یَّنۡصُرُوۡنَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ ٭ وَ مَا کَانَ مِنَ المُنۡتَصِرِیۡنَ ﴿81﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ سے بچانے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔ ( پ20،القصص:81)

درسِ ہدایت:۔یہ عبرتناک واقعہ ہمیں یہ درسِ ہدایت دیتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مال و دولت عطا فرمائے تو اس فرض کو لازم جانے کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور ہرگز ہرگز اپنے مال و دولت پر غرور اور گھمنڈ کر کے نہ اترائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی دولت دیتا ہے اور جب وہ چاہتا ہے پل بھر میں دولت چھین بھی لیتا ہے۔ ہر وقت اس کا دھیان رکھتے ہوئے تواضع اور انکساری کی عادت رکھے اور ہرگز ہرگز کبھی انبیاء و اولیاء و صالحین کی ایذاء رسانی و بدگوئی نہ کرے کہ ان مقبولانِ بارگاہِ الٰہی کی دعا اور بددعا سے وہ ہوجایا کرتا ہے جس کا لوگ تصور اور خیال بھی نہیں کرسکتے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
 (۵۱)رومی مغلوب ہو کر پھر غالب ہوں گے
فارس اور روم کی دونوں سلطنتوں میں جنگ چھڑی ہوئی تھی اور چونکہ اہل فارس مجوسی تھے۔ اس لئے عرب کے مشرکین اُن کا غلبہ پسند کرتے تھے اور رومی چونکہ اہل کتاب تھے اس لئے مسلمانوں کو ان کا فتح یاب ہونا اچھا لگتا تھا۔ خسرو پرویز بادشاہ ِ فارس اور قیصر روم دونوں بادشاہوں کی فوجیں سرزمینِ شام کے قریب معرکہ آرا ہوئیں اور گھمسان کی جنگ کے بعد اہل فارس غالب ہوئے ۔مسلمانوں کو یہ خبر بڑی گراں گزری اور کفارِ مکہ اس خبر سے مسرور ہو کر
Flag Counter