Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
194 - 414
جائے۔چنانچہ قارون کا مکان جو سونے کا تھا اور اس کا سارا خزانہ، سبھی زمین میں دھنس گیا۔
         ( صاوی، ج۴، ص۱۵۴۶۔۱۵۴۷،پ۲۰، القصص:۸۱)
قارون کا خزانہ:۔اس کو قرآن کی زبان سے سنئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے قارون کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن خزانوں کی کنجیاں ایک مضبوط اور طاقت ور جماعت بمشکل اٹھا سکتی تھی۔ قرآن مجید میں ہے:۔
اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوْمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمْ ۪ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنَ الْکُنُوۡزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِ ٭
ترجمہ کنزالایمان:۔بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے جن کی کنجیاں ایک زور آور جماعت پر بھاری تھیں۔(پ20،القصص:76)

حضرت موسٰی علیہ السلام کی نصیحت:۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون کو جو نصیحت فرمائی وہ یہ ہے کہ جس کو قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے۔ اسی خیر خواہی والی نصیحت کو سن کر قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دشمن ہو گیا۔ غور کیجئے کہ کتنی مخلصانہ اور کس قدر پیاری نصیحت ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ساتھ ساری قوم قارون کو سناتی رہی کہ:
 اِذْ قَالَ لَہٗ قَوْمُہٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیۡنَ ﴿76﴾وَ ابْتَغِ فِیۡمَاۤ اٰتٰىکَ اللہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنۡ کَمَاۤ اَحْسَنَ اللہُ اِلَیۡکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔جب اس سے اس کی قوم نے کہا اترا نہیں بیشک اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیساا للہ نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ چاہ۔(پ20،القصص:76،77)

قارون نے اپنے مال کے گھمنڈ میں اس مخلصانہ نصیحت کو ٹھکرا دیا اور خوب بن سنور کر تکبر اور
Flag Counter