Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
193 - 414
الزام لگائے۔ چنانچہ عین اُس وقت جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام وعظ فرما رہے تھے۔ قارون نے آپ کو ٹوکا کہ فلانی عورت سے آپ نے بدکاری کی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اُس عورت کو میرے سامنے لاؤ۔ چنانچہ وہ عورت بلائی گئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے عورت! اُس اللہ کی قسم! جس نے بنی اسرائیل کے لئے دریا کو پھاڑ دیا۔ اور عافیت و سلامتی کے ساتھ دریا کے پار کرا کر فرعون سے نجات دی۔ سچ سچ کہہ دے کہ واقعہ کیا ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جلال سے عورت سہم کر کانپنے لگی اور اس نے مجمع ِ عام میں صاف صاف کہہ دیا کہ اے اللہ عزوجل کے نبی! مجھ کو قارون نے کثیر دولت دے کر آپ پر بہتان لگانے کے لئے آمادہ کیا ہے۔ اُس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام آبدیدہ ہو کر سجدہ شکر میں گرپڑے اور بحالتِ سجدہ آپ نے یہ دعا مانگی کہ یا اللہ! قارون پر اپنا قہر و غضب نازل فرما دے۔ پھر آپ نے مجمع سے فرمایا کہ جو قارون کا ساتھی ہو وہ قارون کے ساتھ ٹھہرا رہے اور جو میرا ساتھی ہو وہ قارون سے جدا ہو جائے۔ چنانچہ دو خبیثوں کے سوا تمام بنی اسرائیل قارون سے الگ ہوگئے۔ 

    پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زمین کو حکم دیا کہ اے زمین!تو اس کو پکڑ لے تو قارون ایک دم گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا پھر آپ نے دوبارہ زمین سے یہی فرمایا تو وہ کمر تک زمین میں دھنس گیا۔ یہ دیکھ کر قارون رونے اور بلبلانے لگا اور قرابت و رشتہ داری کا واسطہ دینے لگا مگر آپ نے کوئی التفات نہ فرمایا۔ یہاں تک کہ وہ بالکل زمین میں دھنس گیا۔ دو منحوس آدمی جو قارون کے ساتھی ہوئے تھے، لوگوں سے کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون کو اس لئے دھنسا دیا ہے تاکہ قارون کے مکان اور اُس کے خزانوں پر خود قبضہ کرلیں۔ تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ قارون کا مکان اور خزانہ بھی زمین میں دھنس