عمارت کی تکمیل کی وصیت فرمائی۔ چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنّوں کی ایک جماعت کو اس کام پر لگایا اور عمارت کی تعمیر ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ کی وفات کا وقت بھی قریب آگیا اور عمارت مکمل نہ ہوسکی تو آپ نے یہ دعا مانگی کہ الٰہی میری موت جنوں کی جماعت پر ظاہر نہ ہونے پائے تاکہ وہ برابر عمارت کی تکمیل میں مصروف عمل رہیں اور ان سبھوں کو جو علم غیب کا دعویٰ ہے وہ بھی باطل ٹھہر جائے۔ یہ دعا مانگ کر آپ محراب میں داخل ہو گئے اور اپنی عادت کے مطابق اپنی لاٹھی ٹیک کر عبادت میں کھڑے ہوگئے۔ اور اسی حالت میں آپ کی وفات ہو گئی مگر جنّ مزدور یہ سمجھ کرکہ آپ زندہ کھڑے ہوئے ہیں برابر کام میں مصروف رہے اور عرصہ دراز تک آپ کا اسی حالت میں رہنا جنوں کے گروہ کے لئے کچھ باعث ِ حیرت اس لئے نہیں ہوا کہ وہ بارہا دیکھ چکے تھے کہ آپ ایک ایک ماہ بلکہ کبھی کبھی دو دو ماہ برابر عبادت میں کھڑے رہا کرتے ہیں۔ غرض ایک سال تک وفات کے بعد آپ اپنی لاٹھی کے سہارے کھڑے رہے یہاں تک کہ بحکم ِ الٰہی دیمکوں نے آپ کے عصا کو کھا لیا اور عصا کے گرجانے سے آپ کا جسم ِ مبارک زمین پر آگیا۔ اس وقت جنوں کی جماعت اور تمام انسانوں کو پتا چلا کہ آپ کی وفات ہو گئی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ:۔