| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
درسِ ہدایت:۔(۱)اس قرآنی واقعہ سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے مقدس بدن وفات کے بعد سڑتے گلتے نہیں ہیں۔ کیونکہ آپ نے ابھی ابھی پڑھ لیا کہ ایک سال تک حضرت سلیمان علیہ السلام وفات کے بعد عصا کے سہارے کھڑے رہے۔ اور اُن کے جسم مبارک میں کسی قسم کا کوئی تغیر رونما نہیں ہوا۔ یہی حال تمام انبیاء علیہم السلام کا اُن کی قبروں میں ہے کہ ان کے بدن کو مٹی کھا نہیں سکتی۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے جس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے کہ:۔
اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاء فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُرْزَقُ
(سنن ابن ماجہ ، کتاب الجنائز ، باب ذکر وفاتہ .....الخ، ج۳،ص۲۹۱،رقم ۱۶۳۷)
بے شک اللہ نے زمین پر حرام فرما دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے لہٰذا اللہ کے نبی زندہ ہیں اور ان کو روزی دی جاتی ہے۔ اور حاشیہ مشکوٰۃ میں تحریر ہے کہ ہر نبی کی یہی شان ہے کہ وہ قبروں میں زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ اُن کو روزی عطا فرماتا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ اور امام بیہقی نے فرمایا ہے کہ انبیاء علیہم السلام مختلف اوقات میں متعدد مقامات پر تشریف لے جائیں یہ جائز و درست ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلوٰۃ، باب الجمعۃ، الفصل الثالث،ج۳، ص ۴۶۰ ، رقم ۱۳۶۶)
اسی لئے اہل سنت و جماعت کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی مقدس قبروں میں حیاتِ جسمانی کے لوازم کے ساتھ زندہ ہیں۔ وہابیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ مرکر مٹی میں مل گئے۔ اسی لئے یہ گستاخ فرقہ انبیاء کرام کی قبروں کو مٹی کا ڈھیر کہہ کر ان مقدس قبروں کی توہین اور اُن کو منہدم کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ حد ہو گئی کہ عالم ِ اسلام کی انتہائی بے چینی کے باوجود گنبد ِ خضریٰ کو مسمار کردینے کی اسکیمیں برابر حکومت سعودیہ میں بنتی رہتی ہیں مگر خداوند کریم کا یہ فضل عظیم ہے کہ اب تک وہ اس پلان کو بروئے کار نہیں لاسکے ہیں