| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
ترجمہ کنزالایمان:۔اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے۔ چنانچہ حضرت آصف بن برخیا نے روحانی قوت سے بلقیس کے تخت کو ملک سبا سے بیت المقدس تک حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں کھینچ لیا اور وہ تخت زمین کے نیچے نیچے چل کر لمحہ بھر میں ایک دم حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے قریب نمودار ہو گیا۔ تخت کو دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہا:۔
ہٰذَا مِنۡ فَضْلِ رَبِّیۡ ۟ۖ لِیَبْلُوَنِیۡۤ ءَاَشْکُرُ اَمْ اَکْفُرُ ؕ وَمَنۡ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ ۚ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیۡ غَنِیٌّ کَرِیۡمٌ ﴿40﴾ (پ19،النمل:40)
ترجمہ کنزالایمان:۔یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے پرواہ ہے سب خوبیوں والا۔ درسِ ہدایت:۔اس قرآنی واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو بڑی بڑی روحانی طاقت و قوت عطا فرماتا ہے۔ دیکھ لیجئے حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پلک جھپکنے بھر کی مدت میں تخت بلقیس کو ملک سبا سے دربار سلیمان میں حاضر کردیا۔ اور خود اپنی جگہ سے ہلے بھی نہیں ۔اسی طرح بہت سے اولیاء کرام نے سینکڑوں میل کی دوری سے آدمیوں اور جانوروں کو لمحہ بھر میں بلا لیا ہے۔ یہ سب اولیاء کی اُس روحانی طاقت کا کرشمہ ہے جو خداوند قدوس اپنے ولیوں کو عطا فرماتا ہے اس لئے کبھی ہرگز اولیاء کرام کو اپنے جیسا نہ خیال کرنا اور نہ اُن کے اعضاء کی طاقتوں کو عام انسانوں کی طاقتوں پر قیاس کرنا۔ کہاں عوام اور کہاں اولیائ۔ اولیاء کرام کو اپنے جیسا سمجھ لینا یہ گمراہی کا سرچشمہ ہے۔ حضرت مولانا رومی علیہ الرحمۃ نے مثنوی شریف میں اسی مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے بڑی وضاحت کے ساتھ تحریر فرمایا ہے۔